کسان کے بیٹے محمد تابش کو ایمس میں سیکنڈ رینک

,

   


مظفرنگر کے پہلے ڈی ایم گیسٹرولوجسٹ بننے کا اعزاز

مظفرنگر : اترپردیش میں مظفر نگر کے ایک چھوٹے گاؤں میں جدوجہد کرنے والے کسان کے بیٹے محمد تابش نے نومبر 2020 میں پی جی آئی چنڈی گڑھ گیسٹرولوجی میں کل ہند سطح پر دوسرا رینک لاکر سبھی کو حیران کر دیا ہے۔ وہ مظفر نگر کے پہلے ڈی ایم گیسٹرولوجسٹ ہوں گے۔ 2017 میں نیٹ میں ہندوستان میں آٹھواں رینک لانے والے تابش کے والد کسان ہیں۔ انھوں نے محنت و مشقت سے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔ اس کا اعتراف تابش بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’میری کامیابی کا سہرا میرے والدین کو جاتا ہے جنھوں نے مجھے اچھی پرورش دی اور ڈسپلن کا سلیقہ سکھایا۔‘‘شہر سے ملحق گاؤں نرانا کی زمین نئی منڈی تھانہ کے سب سے قریب ہے، لیکن گاؤں سکھیڑا تھانہ کے تحت آتا ہے۔ یہ شہر سے بجنور سڑک پر 7 کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ مظفر نگر شہر پرکاجی، کھتولی اور میرا پور اسمبلی کی سرحد قریب ہے۔ لیکن بالکل عجیب طریقے سے سب سے دور نئی حد بندی میں اسے چرتھاول اسمبلی حلقہ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ گاؤں کی آبادی تین ہزار ہے اور ڈاکٹر ایک بھی نہیں۔ ایک بھی معیاری اسکول یہاں نہیں ہے۔ ایک پرائمری اسکول ہے لیکن اس میں ٹیچر نہیں ہے۔ سڑکیں ایک یا دو ہیں، باقی راستے ٹوٹے پڑے ہیں۔مظفر نگر سے جانسٹھ روڈ پر نرانا نام والے اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ آپسی مقدمے بازی میں الجھے ہوئے ہیں، اور جو وقت ملتا ہے اس میں زراعت کرتے ہیں۔ پھر بھی شہر سے 7 کلو میٹر مشرق میں نرانا مظفر نگر کا سینہ چوڑا کرنے کا ایک سبب بن گیا ہے۔ کیونکہ یہاں کے ایک لڑکے نے ملک کے مشہور کنگ جارج میڈیکل کالج، لکھنؤ کے سب سے باوقار ہیویٹ میڈل کو اپنے سینہ پر سجا کر مظفر نگر کا سینہ چوڑ کیا تھا، اور اب ملک بھر میں دوسرا رینک لانا اور بھی بڑی کامیابی ہے۔یہ وہی مظفر نگر ہے جسے طویل وقت سے اتر پردیش کا ’کرائم کیاپٹل‘ کہا جاتا رہا ہے اور 2013 فسادات کے بعد اس شہر کی بڑی بدنامی ہوئی ہے۔