متنازعہ قوانین کی منسوخی کی ہدایت دینے کی درخواست۔ کسانوں کے صبر کا امتحان نہ لیں: شردپوار
نئی دہلی : بھارتیہ کسان یونین نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی ہے کہ پارلیمنٹ کی جانب سے ستمبر میں منظورہ 3 متنازعہ زرعی قوانین منسوخ کرنے کی ہدایت دی جائے ۔ گزشتہ چند ہفتوں سے ہزاروں کسان ان قوانین کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے ان کی منسوخی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ بھارتیہ کسان یونین کی عرضی اس کے صدر بھانو پرتاپ سنگھ نے داخل کی ۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ تینوں قوانین کاشت کاری کو تجارتی سرگرمی اور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کا کام بنادیں گے اور اس کے نتیجہ میں کسان کارپوریٹ اداروں کے رحم و کرم پر ہوں گے ۔ قومی دارالحکومت کے سرحدوں پر کسانوں کے جاریہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے عرضی میں کہا گیا ہے کہ ریل روکو ایجی ٹیشن بھی عنقریب شروع کیا جائے گا ۔ نئے قوانین کو من مانی اور جابرانہ قرار دیتے ہوئے پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا کہ انہیں معقول مباحث کے بغیر منظور کیا گیا ۔ ممبئی میں سابق مرکزی وزیر زراعت اور این سی پی کے سربراہ شردپوار نے آج کہا کہ حکومت نئے زرعی قوانین کے مخالف کسانوں کے صبر کا امتحان نہ لیں ۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسی صورت میں صرف اور صرف قوم کا نقصان ہوگا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں این سی پی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ دہلی کی سرحدوں پر جاری احتجاج دیگر مقامات پر پھیل سکتا ہے اس لئے بروقت فیصلہ ضروری ہے ۔ مرکز کسانوں کے مطالبوں پر جلد از جلد کوئی قابل قبول حل نکالیں ۔ سپریم کورٹ مرکزی حکومت کو پہلے ہی متنازعہ قوانین کے جواز کو چیلنج کرنے والی مختلف عرضیوں پر نوٹسیں جاری کرچکا ہے ۔ ان قوانین کو سب سے پہلے جون میں مرکزی حکومت نے آرڈیننس کے طور پر متعارف کرایا تھا ۔ گزشتہ چند ہفتوں سے پنجاب ، ہریانہ اور اترپردیش سے آئے ہزاروں کسان شدید احتجاج کررہے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ نئے قوانین سے ان کی خودمختاری ختم ہوجائے گا اور سارا فائدہ کارپوریٹ اداروں کو منتقل ہوگا ۔ کسانوں نے گزشتہ ماہ کے اوائل بطور احتجاج دہلی کی طرف مارچ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس دوران دارالحکومت تک جانے والی بڑی سڑکوں پر راستہ روکو احتجاج کا بھی پروگرام تھا ۔ کئی مقامات پر سکیورٹی پرسونل نے کسانوں کا احتجاج ناکام بنانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے جھڑپیں پیش آئیں ۔ کئی سیاسی پارٹیوں بالخصوص اپوزیشن والوں نے احتجاجی کسانوں سے اپنی بھرپور ہمدردی اور تائید و حمایت کا اظہار کیا ہے اور حکومت پر زور دیا کہ تینوں قوانین کو منسوخ کردیں لیکن مرکز نے ان مطالبات کو سنی ان سنی کردیا ۔