کسان یونین قائدین کی آج بھوک ہڑتال

,

   

حکومت کے آگے نہ جھکنے کسانوں کا عہد ، احتجاج میں شدت کا منصوبہ

نئی دہلی : کسان یونین قائدین کل صبح 8 بجے سے 5 بجے شام تک بھوک ہڑتال کریں گے۔ مودی حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف کسانوں کا یہ احتجاج شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ کسان لیڈر گرو نام سنگھ چھودانی نے نئی دہلی میں سنگھو سرحد پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کسان، مودی حکومت کے آگے ہرگز نہیں جھکیں گے اور 14 ڈسمبر سے ہمارے احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔ سنگھو سرحد پر احتجاجی کسانوں کی کثیر تعداد جمع ہے۔ ملک کے دوسرے مقامات پر بھی کسان برادری احتجاج کررہی ہے۔ یہ کسان اپنے اپنے احتجاجی مقام پر بھوک ہڑتال کریں گے۔ تمام ضلع ہیڈکوارٹرس پر دھرنے بھی دیں گے۔ اس کے ساتھ احتجاج بھی معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ گرو نام سنگھ نے کہا کہ بعض گروپ اپنا احتجاج ختم کرکے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ حکومت کے منظورہ قوانین کے حق میں ہیں۔ ہم آپ کو یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یہ لوگ ہمارے احتجاج میں شامل نہیں ہیں۔ یہ لوگ ، حکومت کے ساتھ سازباز کرتے ہوئے ہمارے احتجاج کو سبوتاج کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ حکومت نے جاریہ کسانوں کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے اس طرح کی سازش رچی ہے۔ کسان لیڈر شیو کمار ککا نے کہا کہ سرکاری ایجنسیاں کسانوں کو دہلی پہنچنے سے روک رہی ہیں، لیکن ہمارا یہ احتجاج ہمارے مطالبات کی یکسوئی تک جاری رہے گا۔ ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم کسان دشمن تین کالے قوانین کو واپس لینے تک چپ نہیں رہیں گے۔ اس تحریک میں تمام کسان یونینیں حصہ لے رہی ہیں۔ ایک بار کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ نے کہا کہ اگر حکومت نے بات چیت کی ایک اور تجویز پیش کی تو ہماری کمیٹی اس پر فیصلہ کرے گی۔ ہم تمام سے اپیل کررہے ہیں کہ وہ احتجاج کے دوران امن کی برقراری کو یقینی بنائیں۔