دبئی : ہندوستان کی ٹینس اسٹار ثانیہ مرا کو زندگی اپنی شرطوں پر جینے کا کوئی ملال نہیں ہے۔ کئی لوگ ثانیہ کو ’’ٹرینڈ سٹر‘‘ مانتے ہیں جب کہ کچھ انہیں بندھنوں کو توڑنے والی قرار دیتے ہیں۔ لیکن ثانیہ ان باتوں سے اتفاق نہیں رکھتی۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ بس اپنی شرطو ںپر زندگی جینا چاہتی ہیں۔ ثانیہ نے ٹینس میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے جس کے آس پاس کوئی بھی دیگر ہندوستانی خاتون ٹینس کھلاڑی نہیں ہے۔ بین الاقوامی کھلاڑیوں میں بھی دیکھیں تو آنے والے وقت میں ثانیہ کی طرح کامیابی حاصل کرنے والی کوئی نظر نہیں آرہی ہے۔ ثانیہ نے بڑی حد تک مثالی زندگی جی ہے۔ ثانیہ نے دبئی میں اپنے گھر پر ایک انٹرویو میں کہا کہ جو لوگ اپنے طریقے سے کام کرنے کی ہمت کرتے ہیں اس معاملہ میں سماج کو اختلافات کو تسلیم کرنا چاہیے اور کسی کو ’ویلن یا ہیرو‘ کے طور پر پیش کرنے سے بچنا چاہیے۔انٹرنیشنل ٹینس سے سبکدوش ثانیہ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کوئی اصول یا پابندی توڑی ہے۔ کون لوگ ہیں جو یہ اصول بنا رہے ہیں اور کون لوگ ہیں جو یہ وضاحت کر رہے ہیں کہ آئیڈیل کیا ہے؟ دبئی میں اپنا آخری ٹورنمنٹ کھیلنے والی ثانیہ نے کہا کہ میرے خیال میں ہر شخص مختلف ہے اور ہر شخص کو آزادی ہونی چاہیے۔ 36 سالہ حیدرآبادی اسٹار نے کہاکہ ‘مجھے لگتا ہے کہ ایک معاشرے کے طور پر یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم شاید بہتر کر سکتے ہیں۔ ہمیں صرف اس لئے لوگوں کی تعریف یا تذلیل نہیں کرنی چاہیے کہ وہ کچھ مختلف کر رہے ہیں۔ انٹرویو میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ وہ اپنی زندگی اپنی شرائط پر گزارنا چاہتی ہیں۔ ثانیہ نے کہاکہ میں خود ایمانداری کے ساتھ جینے کی کوشش کرتی ہوں۔ میں نے یہی کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے آپ سے سچے رہنے کے ساتھ ساتھ اپنی شرائط پر زندگی گزارنے کی کوشش کی ہے۔ میرے خیال میں ہر ایک کو ایسا کرنے کے قابل ہونا چاہئے اور اسے ایسا کرنے کی آزادی ہونی چاہئے۔ کسی کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ آپ نئے معیارات مرتب کر رہے ہیں۔ آپ قواعد کو توڑ رہے ہیں کیونکہ آپ ایسا کچھ کر رہے ہیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔