واشنگٹن : وائیٹ ہاؤس نے جمعرات کو العربیہ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ واشنگٹن کو بنیادی ڈھانچے کے لیے کسی بھی روسی خطرے کا فیصلہ کن ردعمل کے ساتھ سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ امریکی سیٹلائٹ کو نشانہ بنانے کے امکان کا خطرہ اشتعال انگیز ہے۔وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا آئندہ جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس میں روسی صدر پوتین کے ساتھ بیٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ پوتین ہماری جوہری صلاحیتوں کو جانتے ہیں۔ ہمارے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے علاوہ کئی آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا امریکہ دفاع کے لیے درکار فوجی ساز و سامان کے ساتھ یوکرینیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔دریں اثنا پینٹاگون نے جمعرات کو شائع ہونے والی اپنی نئی جوہری حکمت عملی میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ جوہری ہتھیاروں کو کسی بھی اسٹریٹجک حملے کو روکنے کے لیے سمجھتا ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ اس نئے طریقہ کار کا مقصد دشمن کے لئے فیصلہ سازی کو پیچیدہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا نئے طریقہ کار میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ساتھ ہی ساتھ غیر جوہری ذرائع کے استعمال پر مبنی بہت بڑے سٹریٹجک حملے بھی شامل ہیں۔نئی جوہری حکمت عملی میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو اپنے ملک کے بڑھتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف سخت انتباہ کرنا بھی شامل ہے۔روس نے یوکرین کی جنگ پر امریکہ کے خلاف ایک بے مثال خطرہ ایسے وقت میں کھڑا کر دیا ہے جب اسرائیل نے کئیف کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کا انکشاف کیا ہے۔
روسی وزارت خارجہ میں ہتھیاروں کے کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے امور کے ڈپٹی ڈائریکٹر وارونٹسوف نے اعلان کیا کہ اگر امریکی سیٹلائٹ یوکرین کے تنازع میں استعمال ہوتے ہیں تو وہ ان پر حملہ کرنے کے لیے جائز ہدف بن سکتے ہیں۔