شریعت محمدیؐ میں خواتین، منصب متولی کی اہل، لیکن واقف کی وصیت پر عمل بھی ضروری : سپریم کورٹ
نئی دہلی 27 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج اپنے اس تاثر کا اظہار کیا ہے کہ ’متولی کی جانشینی کسی جائیداد کو وقف کرنے والے واقف کی خواہش و مرضی کے مطابق ہونی چاہئے اور کسی دوسری دستاویز کے ذریعہ واقف کے ارادہ یا خواہش کو پامال نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے مزید اس تاثر کا اظہار بھی کیاکہ شریعت محمدیؐ کے تحت اگرچہ کوئی خاتون متولی کا منصب سنبھال سکتی ہے لیکن اگر واقف صرف مرد ورثاء و جانشینوں کے حق میں تولیت بنانے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے تو خاتون وارث مذکورہ وقف اسٹیٹ پر اپنا ادعاء نہیں کرسکتی۔ جسٹس این وی رمنا، جسٹس موہن ایم شانتا گوڈر اور جسٹس اجئے رستوگی پر مشتمل سپریم کورٹ بنچ نے ایک وقف اسٹیٹ کی مستقل متولیہ کی حیثیت سے ناظرہ خاتون کے تقرر کی منسوخی کی توثیق کرتے ہوئے ان تاثرات کا اظہار کیا۔ اس مقدمہ میں کلکتہ ہائی کورٹ نے اس احساس کا اظہار کیا تھا کہ واقف نے بورڈ وصیت نامہ میں منصب متولی کے لئے بنگالی زبان میں ’پترو پترادی کرومے‘ کی اصطلاح استعمال کیا تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ متولی کا منصب نسل در نسل بیٹوں سے پوتوں کو تولیت کی وراثت منتقل ہوتی رہے۔ اس واقف کا اس وصیت نامے کے پیش نظر ناظرہ خاتون اس وقف اسٹیٹ کی متولیہ کے منصب کے لئے اہل نہیں ہوسکتیں۔ عدالت عظمیٰ کی بنچ نے سیدہ ناظرہ خاتون بمقابلہ سید ظہیرالدین احمد بغدادی مقدمہ کے فیصلے کی توثیق کردی اور کہاکہ متولی کو کسی اور کے حق میں اپنے منصب کی منتقلی یا سپردگی کا اختیار نہیں رہتا تاوقتیکہ وقف وصیت نامہ میں ہی ایسے اختیارات نہ دیئے جائیں۔ عدالت نے کہاکہ ان حالات میں مختار نامہ کے جناب میں سید بدرالدین کی طرف سے متولی کا منصب ٹرسٹ زوجہ کے حق میں منتقل کرنے کا عمل ان (بدرالدین) کے اختیارات اور شریعت محمدیؐ کے قوانین کے مروجہ اُصولوں کے مغائر ہے۔