دو درخواستوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کی مرکز کو نوٹس ، مرکز سے جواب طلبی
نئی دہلی ۔ /6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون میں ترمیم کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ درخواستوں پر مرکز سے جواب طلب کیا ہے ۔ ان درخواستوں کے ذریعہ غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون میں کی جانے والی ترمیمات کے ضمن میں مختلف بنیادوں پر چیلنج کیا گیا ہے جن میں بعض ایجنسیوں کو کسی شخص کو دہشت گرد قرار دینے کے اختیارات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا اتلاف بھی شامل ہے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل بنچ نے ایک شہری سجل اوستھی اور ایک غیرقانونی تنظیم انجن برائے تحفظ انسانی حقوق (اے پی سی آر) کی طرف سے دائر کردہ ان درخواستوں کی بنیاد پر مرکز کو نوٹس جاری کی ہے ۔ غیرقانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون (یو اے پی اے) میں ترمیمات پر مبنی ایک بل /2 اگست کو پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا تھا اور /9 اگست کو صدر جمہوریہ سے منظوری حاصل ہوئی تھی ۔ اس ترمیمی قانون کی رو سے مرکز کو کسی بھی شخص کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کی جائیدادیں ضبط کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے ۔ غیرقانونی سرگرمیوں (کے انسداد) کا قانون 2019 ء سے کسی شخص کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کے بعد اس کے سفر پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات فراہم ہوئے تھے ۔ اے پی سی آر کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ترمیمات کی صورت میں دستوری دفعہ 21 کے تحت شہریوں کو حاصل شخصی وقار اور احترام نفس کے بنیادی حقوق کسی درکار عمل کی تکمیل کے بغیر ہی سلب ہوں گے ۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ کسی شخص کو محض حکومت کے شبہ کی بنیاد پر ایک مرتبہ دہشت گرد قرار دیئے جانے کا اعلان کیا جاتا ہے اور بعد ازاں اگرچہ اس (اعلان) کو واپس لئے جانے کے باوجود بھی زندگی بھر اس پر دہشت گردی کا غیرضروری اور غلط داغ لگارہے گا جو انتہائی ظالمانہ امر ہوگا ‘‘ ۔