گاندھی ہاسپٹل کی ابتر صورتحال، بیڈ کے انتظار میں مریضوں کی قطار، بیڈ کیلئے بھاری رقومات کا حصول
حیدرآباد۔ کوئی بھی انسان اپنے رشتہ دار کی زندگی کیلئے کسی دوسرے کی موت کی خواہش نہیں کرسکتا لیکن کورونا وباء کے قہر نے نفسا نفسی کا کچھ ایسا ماحول پیدا کردیا ہے کہ دواخانوں میں بستر کے حصول کیلئے لوگ کسی مریض کی موت کا انتظار کررہے ہیں۔ ریاست میں کورونا کے علاج کا سب سے بڑا سرکاری مرکز گاندھی ہاسپٹل ہے جہاں ریاست کے تمام اضلاع سے مریضوں کو رجوع کیا جارہا ہے۔ گاندھی ہاسپٹل میں تمام بستر چاہے وہ آکسیجن یا وینٹی لیٹر سے منسلک ہوں پُر ہوچکے ہیں۔ جنرل وارڈس میں بھی مریضوں کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہاسپٹل کے آؤٹ پیشنٹ بلاک کے روبرو شہر اور اضلاع سے مریضوں کو منتقل کرنے والی ایمبولنسوں کی قطار دیکھی جارہی ہے جس میں آکسیجن کے ساتھ مریض ہاسپٹل میں بستر کیلئے گھنٹوں انتظار پر مجبور ہیں۔ دواخانہ کے اسٹاف کا کہنا ہے کہ کسی کی موت ہونے پر دوسرے مریض کو بستر مل سکتا ہے۔ گاندھی ہاسپٹل کی یہ ابتر صورتحال حکومت کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے لیکن گاندھی ہاسپٹل کے علاوہ کسی اور بھی سرکاری دواخانہ میں بستر کا حصول آسان نہیں ہے۔ سرکاری دوا خانوں میں سیاسی دباؤ کے تحت لوگ عقبی راستہ سے بستر حاصل کررہے ہیں جبکہ سیدھے سادھے اور عام آدمی کو دشواری ہورہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل میں کسی مریض کی موت کے ساتھ ہی عملہ خالی بستر الاٹ کرنے کیلئے بھاری رقومات حاصل کررہاہے ۔ اس طرح رشوت کا بازار گرم ہے۔ کسی شخص کو اپنے رشتہ دار کے علاج کیلئے دوسرے مریض کی موت کی امید میں دیکھنا ہو تو گاندھی ہاسپٹل کا دورہ کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کورونا کا شکار ایک مریض کو کل شام 6 بجے گاندھی ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا لیکن وہاں ڈاکٹرس نے بیڈس نہ ہونے کی اطلاع دی۔ اس مریض کو رات 11 بجے تک ایمبولنس میں گذارنا پڑا اور آدھی رات کو 12 بجے آروگیہ شری وارڈ میں جگہ دی گئی۔ اس کے کچھ دیر بعد تیسری منزل پر ایک مریض کی موت واقع ہوئی جس کے بعد یہ مریض کو تیسری منزل پر منتقل کرتے ہوئے مخلوعہ بیڈ پر وینٹی لیٹر کے ساتھ رکھا گیا۔ باوجود اس کے صبح چار بجے مریض کی موت واقع ہوگئی۔ رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ بروقت وینٹی لیٹر نہ ملنے اور کئی گھنٹوں تک بستر کیلئے انتظار کے سبب موت واقع ہوئی ہے۔ مریضوں کے رشتہ دار ڈاکٹرس پر علاج کے سلسلہ میں لاپرواہی کا الزام عائد کررہے ہیں جبکہ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ بیڈس کی کمی کے نتیحہ میں وہ بے بس ہیں۔ روزانہ صبح سے گاندھی ہاسپٹل کے روبرو شہر اور اضلاع سے آئے ہوئے مریضوں کی ایمبولنسوں کی قطار دیکھی جاتی ہے اس میں موجود مریض اور ان کے رشتہ دار اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ زیر علاج کسی مریض کی موت واقع اور خالی بیڈ انہیں الاٹ کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل کے تمام وارڈس پُر ہوچکے ہیں باوجود اس کے حکومت بستروں اور آکسیجن کی موجودگی کا دعویٰ کررہی ہے۔ حیدرآباد کے کسی بھی سرکاری دواخانہ میں آکسیجن اور وینٹی لیٹر سے مربوط دستیاب نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل میں فی الوقت 1092 مریض زیر علاج ہیں ان میں سے 650 وینٹی لیٹر اور 442 مریض آکسیجن پر ہیں۔ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ مریضوں کو شام پانچ بجے کے بعد دواخانہ سے رجوع نہ کیا جائے۔ دن کے اوقات میں رجوع کرنے کی صورت میں بستروں کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔ رات کے اوقات میں ڈپٹی آر ایم او اور جونیر ڈاکٹرس خدمات انجام دیتے ہیں جبکہ سینئر ڈاکٹرس صبح کے اوقات میں دستیاب رہتے ہیں۔