اجازت دینے میں پولیس کو کوئی مسئلہ نہیں ، بشرطیکہ عوام کو تکلیف نہ ہو
حیدرآباد ۔ 22 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : شہریت ترمیمی قانون ، این پی آر اور این آر سی کے خلاف شہر میں جاری احتجاج پر کمشنر پولیس حیدرآباد نے آج اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ایک طرف احتجاج کی اجازت دینے میں کوئی عذر ظاہر نہ کرنے والے کمشنر پولیس نے شاہین باغ طرز کی اجازت سے قطعی انکار کردیا ۔ کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر انجنی کمار نے جو اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کررہے تھے ۔ بتایا کہ شاہین باغ طرز کے احتجاج کی کسی نے اجازت نہیں مانگی ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی احتجاج کی حیدرآباد میں اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جمہوریت کو ملک کی طاقت اور ریڑھ کی ہڈی ماننے والے سٹی پولیس کے اعلی عہدیداروں نے کہا کہ وہ ملک کے ایک عظیم شہر کے حالات کو بگڑنے نہیں دیں گے۔ کمشنر پولیس نے کہا کہ احتجاج اور اپنے خیالات کا اظہار کرنا اور دستوری حق کے استعمال سے پولیس روک نہیں سکتی ۔ لیکن ضابطہ اخلاق اور اصول و ضوابط کے لحاظ سے اگر اجازت مانگی جاتی ہے تو سٹی پولیس ہر اس احتجاج کو اجازت دے گی ۔ انہوں نے کل رات ممتاز باغ اور گنبداں قطب شاہی کے خواتین کے احتجاج کا حوالہ دیا اور خواتین سے درخواست کی کہ وہ احتجاج میں احتیاط سے کام لیں ۔ شہریوں کو اپنے اظہار خیال کی آزادی کے ساتھ ساتھ دوسرے شہریوں کا بھی خیال رکھنا چاہئے ۔ اگر دوسرے شہریوں کو مشکلات پیش آتی ہیں تو پھر پولیس کو اپنا رول ادا کرنا پڑے گا ۔ کمشنر پولیس نے کہا کہ شہر میں تاحال 200 سے زائد احتجاج ہوچکے ہیں تاہم چند ایک مقامات پر پولیس نے قانونی اقدامات کئے اور کارروائی انجام دی اور کئی موقعوں پر اجازت دینے سے انکار کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج ضروری ہے لیکن امن و ضبط کی برقراری بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے پولیس کے رویہ پر اٹھائے جارہے سوالات کا جواب دیتے ہوئے 16 فروری کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایک ہی دن ایک ہی مقام پر تین مختلف سیاسی پارٹیاں جو آپس میں اختلاف رکھتی ہیں نے اجازت مانگی تھی ایسے موقع پر عوام اور شہر کے حق میں جو بہتر تھا پولیس نے وہ اقدام کیا اور تینوں کو اجازت دینے سے انکار کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کے احکامات پر عمل کرنا اولین فرض ہے اور سٹی پولیس اقدامات کو انجام دے رہی ہے ۔ اس موقع پر ایڈیشنل کمشنر لا اینڈر آرڈر مسٹر دیویندر سنگھ چوہان ، جوائنٹ کمشنر اسپیشل برانچ مسٹر ترون جوشی اور دیگر موجود تھے ۔۔