مودی ۔ آپریشن سندور کا ذکر۔ ٹرمپ کو جواب نہیں دیا
ایمرجنسی یاد رہی۔ ووٹ چوری بھول گئے
الیکشن کمیشن پر سپریم کورٹ کا شکنجہ
رشیدالدین
ہندوستان نے آزادی کے 79 سال کی تکمیل کا جشن منایا اور ہر سال یوم آزادی کے موقع پر عوام کی نظر لال قلعہ سے ہونے والی تقریر پر ہوتی ہے۔ وزیر اعظم قوم کو لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی صورتحال اور عوامی مسائل کے حل کے لئے حکومت کے منصوبوں سے واقف کراتے ہیں۔ لال قلعہ نے پنڈت جواہر لال نہرو، لال بہادر شاستری، مرارجی دیسائی، چرن سنگھ، راجیو گاندھی، وی پی سنگھ، پی وی نرسمہا راؤ، آئی کے گجرال، اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسی شخصیتوں کے خطاب کو سنا ہے لیکن آج لال قلعہ بھی نریندر مودی کے خطاب سے عوام کی طرح مایوس دکھائی دیا۔ نریندر مودی ہر موقع کو سیاسی فائدہ کے لئے استعمال کرنے کا ہنر رکھتے ہیں اور گزشتہ 11 برسوں کی طرح انہوں نے اس مرتبہ بھی لال قلعہ کو سیاسی مقصد براری کے لئے استعمال کیا۔ گودی میڈیا کی جانب سے نریندر مودی کی یہ کہتے ہوئے ستائش کی جارہی ہے کہ انہوں نے لال قلعہ سے مسلسل خطاب کا آنجہانی اندرا گاندھی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے اور اب وہ پنڈت جواہر لال نہرو کے ریکارڈ کو چھو سکتے ہیں۔ مودی نے مسلسل 12 ویں مرتبہ لال قلعہ کی فصیل سے قوم کو خطاب کیا جبکہ آنجہانی اندرا گاندھی وزارت عظمی کے دو مرحل میں 16 مرتبہ لال قلعہ سے خطاب کرچکی ہیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے مسلسل 17 سال لال قلعہ سے قوم کو مخاطب کیا اور شاید ہی کوئی ان کے ریکارڈ کی برابری کرسکے۔ نریندر مودی نے خودستائی، حکومت کے کارناموں، مختلف شعبہ جات میں کامیابی کے دعوے اور عوام سے کئی وعدے کئے۔ مودی نے مخالفین کو بھی نشانہ بنایا لیکن وہ ملک کے اصل دشمن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بھول گئے جو حالیہ عرصہ تک بھی ان کے گڈ فرینڈ تھے۔ نریندر مودی نے دیپاولی سے جی ایس ٹی اصلاحات کا اعلان کیا جس کے تحت عوام پر ٹیکس کے بوجھ میں کمی آئے گی۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے ویکست بھارت روزگار یوجنا کا اعلان کیا گیا۔ عوام کا یوں تو حافظہ کمزور ہوتا ہے لیکن ہندوستانی عوام نریندر مودی کے سابق وعدوں کو بھولے نہیں ہیں جس میں انہوں نے ہر ہندوستانی کو 15 لاکھ روپے، ہر سال دو کروڑ روزگار اور 100 دن میں مہنگائی ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہر سال نئے وعدوں کا لالی پاپ عوام کو دینا نریندر مودی کی عادت بن چکی ہے۔ توقع کے مطابق مودی نے آپریشن سندور کی کامیابی پر خود اپنی پیٹھ تھپتھپانے کی کوشش کی۔ آپریشن سندور کے تذکرہ کے دوران انہوں نے فوج کو کھلی چھوٹ دینے اور پاکستان میں بھاری تباہی کا دعوی کیا۔ جہاں تک فوج کو کھلی چھوٹ دینے کا معاملہ ہے اگر واقعی یہ سچ تھا تو پھر ٹرمپ کے دباؤ پر جنگ بندی کس نے کی؟ ڈونالڈ ٹرمپ 30 سے زائد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ انہوں نے تجارت کا لالچ دے کر دونوں ممالک میں جنگ بندی کرائی لیکن آج تک نریندر مودی نے ٹرمپ کا نام لے کر تردید نہیں کی۔ ٹرمپ نے ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف عائد کردیا لیکن نریندر مودی کے خطاب میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ اندرون ملک ہتھیاروں کی تیاری کے لئے سدرشن چکر مشن کے آغاز کا اعلان کیا گیا اور مودی نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے نیوکلیر دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔ نریندر مودی کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ وہ بھلے ہی پاکستان سے خوفزدہ نہیں لیکن ڈونالڈ ٹرمپ سے خوف کی کیا وجہ ہے؟ کانگریس کو نشانہ بنانے کے لئے ایمرجنسی کے 50 سال کی تکمیل کا وزیر اعظم نے ذکر کیا اور کہا کہ دستور اور جمہوریت کے قاتلوں کو نئی نسل یاد رکھنا چاہئے۔ مبصرین کے مطابق ایمرجنسی کی یاد کے ذریعہ کانگریس کو نشانہ بنانا آسان ہے لیکن ملک کے حالات آج ایمرجنسی سے بدتر ہیں۔ گزشتہ 11 برسوں میں نریندر مودی نے نہ صرف دستور اور جمہوریت کا قتل کیا بلکہ دستوری اداروں کی آزادی کو پامال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ اقلیتوں کو دستوری حقوق سے محروم رکھنا نریندر مودی حکومت کا کارنامہ ہے۔ مودی نے لگے ہاتھوں آر ایس ایس کے 100 سال کی تکمیل پر مبارکباد پیش کردی۔ کیا لال قلعہ کا خطاب آر ایس ایس کی ستائش کے لئے موزوں تھا؟ سیاسی مبصرین کے مطابق آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے 75 سال میں سیاست سے سبکدوشی کا جو مشورہ دیا ہے اس سے بچنے کے لئے مودی نے لال قلعہ سے آر ایس ایس کی ستائش کی ۔ نریندر مودی نے 103 منٹ خطاب کرتے ہوئے لال قلعہ سے طویل خطاب کا ریکارڈ قائم کیا۔ مودی کو عوام کی خدمت سے زیادہ ریکارڈ قائم کرنے کا شوق زیادہ ہے اور بیرونی دوروں کے معاملہ میں بھی وہ ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کے قریب ہیں۔ مودی نے 2014 سے آج تک ہر سال اپنے خطاب کے وقت میں اضافہ ہی کیا ہے۔ 2024 میں انہوں نے 98 منٹ خطاب کیا تھا جبکہ 2023 میں ان کا خطاب 90 منٹ پر محیط رہا۔ لال قلعہ سے مسلسل خطاب یا طویل خطاب کا ریکارڈ قائم کرنا کوئی خاص بات نہیں بھلے ہی آپ کم وقت خطاب کریں لیکن باتیں کام کی اور عوام کی بھلائی کی ہونی چاہئے۔ طویل خطاب کا سہارا وہی لوگ لیتے ہیں جن کے پاس کوئی کارکردگی نہیں ہوتی اور صرف لفاظی سے سامعین کے صبر کا امتحان لیتے ہیں۔
پکچر ابھی باقی ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر راہول گاندھی نے جب یہ ڈائیلاگ دہرایا تو سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ بحث شروع ہوگئی کہ راہول گاندھی کے اس جملے کا مطلب کیا ہے اور آخر ایسا کیا ہونے والا ہے کہ ملک میں سیاسی اتھل پتھل ہوگی۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے غرور اور تکبر کا جس انداز میں صفایا کیا اس نے کمیشن کو تو بے ہوش کردیا تو دوسری طرف مودی حکومت کے طوطے اڑ گئے۔ بہار میں فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم کے ذریعہ ووٹ چوری کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس کے خلاف راہول گاندھی کی قیادت میں سارے اپوزیشن نے مورچہ کھول دیا۔ بہار میں نظرثانی کے نام پر جس انداز میں دھاندلیاں کی گئیں انہیں کانگریس اور آر جے ڈی نے ثبوت کے ساتھ بے نقاب کیا۔ راہول گاندھی نے مہاراشٹرا کے ایک اسمبلی حلقہ میں ایک لاکھ بوگس ووٹوں کا دستاویزی خلاصہ کرتے ہوئے ایٹم بم کا جو دھماکہ کیا اس نے مرکز اور کئی ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابی پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ملک کے انتخابی سسٹم کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر عوام کا بھروسہ متزلزل ہوچکا ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ نریندر مودی حقیقی ووٹ سے نہیں بلکہ ووٹ چوری کے ذریعہ وزارت عظمی پر تیسری مرتبہ فائز ہوئے اور اس کام میں الیکشن کمیشن نے مدد کی۔ ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ کی طرح الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے الیکشن ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔ بہار میں فہرست رائے دہندگان پر نظرثانی کا کام جب شروع ہوا تو الیکشن کمیشن کی شرائط اور طریقہ کار سے شبہات پیدا ہونے لگے۔ الیکشن کمیشن ایک دبنگ اور باہوبلی کی طرح اپوزیشن کو بے خاطر کرتے ہوئے یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ جب مودی کا سرپر ہاتھ ہو تو ڈر کس بات کا۔ راہول گاندھی نے جب کبھی دھاندلیوں کے خلاف ثبوت پیش کیا تو الیکشن کمیشن نے معافی کا مطالبہ اور مقدمہ کی دھمکی دی۔ سپریم کورٹ تحمل کے ساتھ ان سرگرمیوں اور الیکشن کمیشن کی من مانی کا مشاہدہ کررہا تھا۔ الیکشن کمیشن کی ہمت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ اس نے آدھار، ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ کو تسلیم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کی تجویز کو نظرانداز کرتے ہوئے 65 لاکھ نام خارج کردیئے۔ فہرست رائے دہندگان کے مسودہ میں 65 لاکھ وہ نام شامل نہیں تھے جو 2024 لوک سبھا انتخابات کی فہرست میں موجود تھے۔ 65 لاکھ میں 22 لاکھ کو الیکشن کمیشن نے مردہ قرار دیا ہے جبکہ باقی دوسرے مقامات منتقل ہوگئے یا پھر غیر حاضر ہیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ مہم میں الیکشن کمیشن کو ایک بھی ایسا شخص نہیں ملا جسے فہرست میں شامل کیا جاسکے۔ الیکشن کمیشن نے 65 لاکھ خارج کردہ ناموں کی تفصیلات جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا غرور جب آسمان چھونے لگا اور وہ خود کو ناقابل چیالنج سمجھ بیٹھا تو سپریم کورٹ نے اپنی لاٹھی چلائی جس سے کمیشن چاروں خانے چت ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ 65 لاکھ خارج کردہ ناموں کی فہرست ویب سائٹ پر جاری کی جائے۔ کمیشن کی ویب سائٹ کے علاوہ بہار کے چیف الیکٹورل آفیسر، اضلاع کے الیکشن آفیسرس کی ویب سائٹس، ہر پولنگ بوتھ حتی کہ پنچایت دفاتر میں بھی فہرست کو آویزاں کرنے کی ہدایت دی۔ اخبارات میں فہرست کو شائع کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ناموں کے آگے مردہ، شفٹ یا غیر حاضر کے علاوہ نام حذف کرنے کی وجوہات درج کی جائیں۔ اگر کوئی اپنے نام کی شمولیت کا دعوی کرے تو آدھار کارڈ کی بنیاد پر اس کے دعوے کو قبول کیا جائے۔ دراصل جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی برق رفتاری پر لال جھنڈی دکھاکر بریک لگادیا۔ سپریم کورٹ نے اپنی دستوری بالادستی کا ثبوت دیا ہے اور یہ واضح کردیا کہ عدلیہ ابھی بھی آزاد اور غیر جانبدار ہے۔ بہار اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کی مدد کے لئے جو نظرثانی مہم شروع کی گئی تھی وہ عوام میں اپنا اعتبار کھوچکی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایک طرف الیکشن کمیشن تو دوسری طرف مودی حکومت پھنس چکی ہے۔ الیکشن کمیشن کی تائید میں کئی مرکزی وزراء میدان میں کود پڑے اور وہ کمیشن پر لگے الزامات کا جواب دے رہے ہیں۔ ایک مرکزی وزیر نے آزادی کے بعد 1952 کے پہلے عام چناؤ میں بھی دھاندلیوں کا الزام عائد کیا۔ بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے ایسے 6 لوک سبھا حلقوں کے اعداد و شمار جاری کئے جہاں سے کانگریس کامیاب ہوئی ہے ان کا دعوی ہے کہ 6 لوک سبھا حلقوں میں بڑی تعداد میں فرضی ووٹرس ہیں۔ ظاہر ہے یہ اعداد و شمار الیکشن کمیشن نے ہی فراہم کئے ہوں گے۔ جب کانگریس قائدین کے حلقوں میں فرضی ووٹرس کی موجودگی کا الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو اعتراف ہے تو اس کا مطلب 2024 کا عام چناؤ آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھا۔ اگر مودی حکومت میں ہمت ہو تو الیکشن 2024 کو کالعدم کرتے ہوئے دوبارہ چناؤ کا اعلان کرے۔ 65 لاکھ ناموں کی اجرائی کے بعد جب مردہ لوگ زندہ کی شکل میں سامنے آئیں گے تو پھر الیکشن کمیشن اور انتخابی سسٹم پر سے عوام کا اعتماد اُٹھ جائے گا۔ عوام کو یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی کہ نریندر مودی ووٹ چوری سے برسر اقتدار ہیں اور وہ ملک کے ’’نائک‘‘ نہیں بلکہ ’’کھل نائک‘‘ ہیں۔ ووٹ چوری پر کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
یہ تو ہوتا تھا کسی کے نوٹ چوری ہوگئے
کس سے ہم شکوہ کریں کہ ووٹ چوری ہوگئے