نماز میں سماجی فاصلے کے مسئلہ پر علماء سے رائے حاصل کرنے کا مشورہ : اسد اویسی
حیدرآباد۔2جون(سیاست نیوز) مساجد کی کشادگی کے بعد بھی ضعیف حضرات جن کی عمر 60 سال سے زائد ہوں وہ مساجد جانے سے احتیاط کریں اور مساجد میں وضو خانوں اور طہارت خانوں کو بند کردیا جائے۔ نماز کے دوران سماجی فاصلہ کی برقراری کے سلسلہ میں علمائے سے رائے حاصل کی جائے ۔ حیدرآباد ایم پی اسد الدین اویسی نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہونے والے 35 افراد نے آج پلازمہ کا عطیہ دیا۔ اس موقع پر اسد اویسی نے کہا کہ پلازمہ کا عطیہ دینے والے انسانیت کا ثبوت دے رہے ہیں جبکہ انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ انہو ںنے 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو مساجد نہ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ 60 سال سے زائد عمر والوں میں قوت مدافعت کی کمی کے سبب انہیں بیماری لاحق ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اسی لئے انہیں مساجد کی کشادگی کے باوجود احتیاط کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مساجد میں موجود وضو خانہ اور طہارت خانہ عام استعمال کیا جاتا ہے اسی لئے ان کو بند کردیا جانا چاہئے ۔ انہو ںنے حکومت ہند کی چینی دراندازی پر اختیار کردہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآبادنے مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے دوران سماجی فاصلہ کی برقراری کے سلسلہ میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں اس طرح سے باجماعت نماز ادا کی جا رہی ہے لیکن اس مسئلہ پر ان کے بجائے علمائے اکرام سے دریافت کیا جائے تو بہتر ہے۔ اسد الدین اویسی نے پلازمہ کا عطیہ دینے والوں کو بیماری سے جدوجہد کے بعد دیگر مریضوں کی مدد کرنے والے قراردیتے ہوئے کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے والوں کو پلازمہ کے عطیہ کے لئے آگے آنے کی ضرورت پر زور دیا۔