سری نگر۔ 7 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں مواصلاتی نظام پر گزشتہ زائد از دو ماہ سے جاری پابندی سے جہاں ایک طرف تمام لوگوں کو بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر گونا گوں مشکلات کا سامنا ہے تو وہیں دوسری طرف اس پابندی کا ایک مثبت پہلو یہ سامنا آگیا ہے کہ بچے اپنے بڑوں کے ساتھ دوبارہ جڑ رہے ہیں اور گھر کے افراد خانہ بھی اپنے اپنے موبائل فونوں کے ساتھ منہمک ہونے کے بجائے ایک بار پھر ایک دوسرے کے ساتھ مختلف گھریلو امور پر بات چیت کرنے لگے ہیں۔بتادیں کہ وادی میں5 اگست سے مواصلاتی نظام مسلسل معطل ہے جس کے باعث لوگوں کوگونا گوں مشکلات کا سامنا ہے تاہم لینڈ لائن سروس کی بحالی سے لوگوں کے مشکلات میں قدرے فرق واقع ہوئی ہے ۔محمد ایوب نامی ایک سبکدوش سرکاری ملازم نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ مواصلاتی نظام پر جاری پابندی کا یہی ایک مثبت پہلو ہے کہ ہمارے بچوں کو ہمارے ساتھ گفتگو کرنے کا وقت میسر ہوا ہے ۔انہوں نے کہا: ’’مواصلاتی نظام پر جاری پابندی سے لوگوں کو یقیناً گوناگوں مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کا ایک مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ ہمارے بچوں کو ہمارے ساتھ گفتگو کرنے کا وقت مل گیا ہے ورنہ وہ لوگ دن رات اپنے اپنے موبائل فونوں کے ساتھ چپکے رہتے تھے اور فیس بک، یو ٹیوب، وٹس ایپ وغیرہ ہی ان کے والدین بھی تھے اور ساتھی و دوست بھی‘‘۔عمران احمد نامی ایک شہری نے کہا کہ موبائل انٹرنیٹ کی پابندی سے ہم عرصہ دراز کے بعد شام کے وقت اپنے گھریلو امور پر بات کرنے لگے ہیں۔