کشمیرمیں نئے اراضی قوانین کیخلاف پی ڈی پی کا احتجاج

   

سرینگر: پولیس نے جمعرات کی صبح پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے دفتر کو مہربند کردیا اور قائدین و کارکنوں کو حفاظتی تحویل میں لیکر پارٹی کے نئے اراضی قوانین کے خلاف احتجاج کو ناکام بنا دیا۔ پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے ۔پی ڈی پی کے قائدین و کارکنان جمعرات کی صبح شیر کشمیر پارک کے قریب واقع پارٹی ہیڈ کوارٹر پر مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کے نئے اراضی قوانین لاگو کرنے کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے جمع ہوئے تو وہاں پہلے سے ہی بھاری تعداد میں تعینات سیکورٹی فورسز بالخصوص جموں و کشمیر پولیس کے اہلکاروں نے حرکت میں آکر انہیں حفاظتی تحویل میں لے لیا۔پارٹی ہیڈ کوارٹر کو بھی مبینہ طور پر مہربند کر دیا گیا تھا اور جن قائدین کو حراست میں لیا گیا ان میں خورشید عالم، وحید الرحمن پرہ، رئوف بٹ، محسن قیوم، طاہر سعید وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ پولیس نے جموں و کشمیر کے افراد پر نوآبادیاتی اراضی قوانین ٹھونسنے کیخلاف احتجاج کرنے پر پی ڈی پی کے قائدین کو گرفتار کیا۔ ہم اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گے ۔انہوں نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہاکہ ‘جموں و کشمیر انتظامیہ نے سرینگر میں پی ڈی پی دفتر مہربند کیا اور کارکنوں کو پر امن احتجاج کرنے پر گرفتار کیا۔