کشمیریوں سے حکومت کی وعدہ خلافی عوام کو سب یاد ہے

   

پی چدمبرم
سابق مرکزی وزیر داخلہ
نریندر مودی حکومت نے اگست 2019 ء میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی موقف عطا کرنے والی دستور کی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا اور اس نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیابلکہ اس ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا، اس معاملہ میں وزیرداخلہ نے بہت جوش کامظاہرہ کیا ۔ عام طورپر یہ مانا جاتا ہیکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے دستور کی دفعہ 370 کی منسوخی سے متعلق حکومت کے اقدامات کو برقرار رکھا ۔ حکومت نے اس بات کا دعویٰ کیا ہیکہ اس نے کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنے (منسوخ کرنے) کا جو قدم اُٹھایا اسے قانونی طورپر درست اور جائز قرار دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے اس دعویٰ کو بعض دانشوروں نے بلا چوں و چرا قبول کرلیا لیکن حکومت کے اس دعویٰ کو راقم غلط قرار دیتا ہے اور اس ضمن میں اپنے ایک کالم میں واضح حوالہ دیا ( 17 ڈسمبر 2023 ء کو انڈین ایکسپریس میں میرا مضمون “Towards a Dystopian Futur” ) شائع ہوا ہے حقیقت میں سپریم کورٹ نے دفعہ 370 کی منسوخی کے معاملہ میں حکومت کے دعویٰ کے برعکس فیصلہ دیا تھا ۔
حکومت نے اگست 2019 ء کو تین اقدامات کئے :
٭ دستور کی شق ( دفعہ 367) کی تشریح کیلئے شق 4 کو شامل کرنے دفعہ 370(1) کا استعمال کیا ۔
٭ توسیع شدہ تشریحی شق استعمال کرتے ہوئے دفعہ 370(3) کی شرط میں ترمیم کرنے کی کوشش کی ۔
٭ ترمیم شدہ دفعہ 370(3) اور اس کی شرط کو استعمال کرتے ہوئے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کی کوشش کی ۔
اس ضمن میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا کہ عدالت عظمیٰ ( سپریم کورٹ) نے حکومت کے مذکورہ تینوں اقدامات کو ناقابل قبول اور غیردستوری قرار دیا لیکن سپریم کورٹ نے یہ کہا کہ دفعہ 370(1) کے تحت تمام دستوری دفعات کا جموں و کشمیر پر نفاذ کا عمل درست تھا اور اس کے وہی نتائج برآمد ہوئے جیسے منسوخی کے ذریعہ برآمد ہوئے ۔ بہرحال قانونی طورپر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ دفعہ 370 کی خودساختہ منسوخی ، محض ایک مکارانہ مسودہ بندی کے ذریعہ حاصل کی گئی ۔ عدالت نے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور جو برقرار رکھا گیا وہ صرف یہ تھا کہ دستور کی تمام دفعات کو دفعہ 370(1) کے تحت جموں و کشمیر پر نافذ کیا جاسکتا ہے۔
معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا :
بہرحال یہ قبول کرلیجئے کہ جموںو کشمیر کو حاصل خصوصی موقف منسوخ کردیا گیا تاہم اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ اس خصوصی موقف کی منسوخی نے کشمیری عوام کے دلوں کو اُن کے جذبات کو مجروح کیااور مرکزی حکومت کی سخت گیر موقف کے خلاف کشمیریوں میں ناراضگی کو ہوا دی ۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے ساتھ معاملہ ختم نہیں ہوا ۔ 5 اگسٹ 2019 ء کو ریاست جموںو کشمیر کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا جیسا کہ میں نے ابتدائی سطور میں آپ کو بتایا ہے حالانکہ جموں و کشمیر الحاق سے ہی ایک ریاست تھی ۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنا درست تھا ۔ درخواست گذاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس معاملہ کو بھی مدنظر رکھیں۔ عدالت نے انکار کردیا کیونکہ مرکزی حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جموںو کشمیر ( سوائے لیہہ اور لداخ کے ) کی ریاستی حیثیت بحال کرے گی اور انتخابات کرائے گی ۔اس یقین دہانی کو تسلیم کرتے ہوئے عدالت نے قانونی سوال کو کھلا چھوڑ دیا لیکن 30 ستمبر 2024 ء تک انتخابات کروانے کی حد مقرر کردی ۔ انتخابات ستمبر 2024 ء میں ہوگئے لیکن جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت اب تک بحال نہیں ہوئی جو یقینا مرکزی حکومت کی وعدہ خلافی کے سواء کچھ نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو بی جے پی اور این ڈی اے ( اس اتحاد میں شامل جماعتوں ) پر جموںو کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) میں شامل دوسری جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں کیونکہ ان کے ارکان بھی مرکزی کابینہ اور حکومت کا حصہ ہے اور حکومت چلانے میں ان کا بھی اہم کردار ہے ۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ جموں و کشمیر ریاستی اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد نیشنل کانفرنس نے مرکزی زیرانتظام جموںو کشمیر میں 16 اکٹوبر 2024 ء کو حکومت بنائی ۔ یہ فطری امر ہے کہ نیشنل کانفرنس کی یہی خواہش رہی ہوگی کہ وہ اچھی حکومت چلائے اور عوام کو اس کی ایک نمائندہ حکومت فراہم کی جائے کیونکہ کشمیری عوام کو اُن کی نمائندہ حکومت فراہم کرنے سے جون 2017 ء سے انکار کیا جاتا رہا ہے ۔ شائد ایک خاص حکمت عملی کے تحت نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی ایک ریاست کی حیثیت سے بحالی پر زور نہیں دیا۔
ریاست کی بحالی سے متعلق سخت مطالبہ نہ ہونے کے باعث پیدا ہوئی صورتحال نے مرکزی حکومت کو یہ یقین دلایا کہ یہ معاملہ عوام کی ترجیحات میں شامل نہیں لیکن حقیقت میں ریاستی موقف سے محرومی کو لیکر کشمیری عوام میں نہ صرف برہمی بلکہ تشویش پائی جاتی ہے اور ان لوگوں کی یہ بڑی شکایت ہے کہ جان بوجھ کر اُن کی ریاست کا نہ صرف خصوصی موقف منسوخ کردیا گیا بلکہ ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں میں تقسیم بھی کردیا گیا اور یہ یوں ہی نہیں کیا گیا بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ مجھے 15 ماہ میں ریاستی حکومت نے جو کارکردگی دکھائی اس سے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوئی بعد میں نیشنل کانفرنس کو احساس ہوسکتا ہیکہ اس نے ریاستی حیثیت کی بحالی پر خاموش رہ کر ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے ۔
پہلگام اور ریاست کا درجہ :
پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ نے ہر کسی کو دہلاکر رکھ دیا میں نے اس پر یہ کہا تھا کہ پاکستان سے دراندازی کرکے ہندوستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں مقیم دہشت گردوں نے یہ دہشت گردانہ کارروائی انجام دی اور ان دو گروپوں نے آیا ملکر یہ کارروائی انجام دی ، یہ بھی ایک سوال ہے جس کا انحصار واقعہ اور اس کیلئے موقع پر منحصر تھا ۔ آپریشن سندور اور 28-29 جولائی 2025 ء کو تین بیرونی دہشت گردوں کے انکاؤنٹر میں صفائے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملہ واقعہ کا پردہ گرادیا گیا ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ دو گرفتارشدہ افراد کے بارے میں ملکر خاموشی اختیار کی گئی ہے ۔ آیا وہ دونوں ہنوز حراست میں ہیں یا اُنھیں رہا کرکے کہیں بند کردیا گیا ہے ۔ یہ ایک معمہ ہے لیکن عوام کو حکومت کا وہ وعدہ اب بھی یاد ہے جوکے اُس نے جموں و کشمیر کے ریاستی موقف کو بحال کرنے سے متعلق کیا تھا ۔ وہ جان چکے ہیں کہ حکومت نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیامیرا ایقان ہیکہ دستوری عدالت انصاف ضرور کرے گی ۔