ملازمتوں اور تجارتی بحران ، ذاتی تجارت کے امکانات موہوم
حیدرآباد۔18اکٹوبر(سیاست نیوز) کشمیر میں نوجوان ‘ تاجرین ‘ ملازمین اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد انتہائی ابتر حالات کا شکار ہونے لگے ہیں اور اب وہ اپنے پیشے تبدیل کرتے ہوئے مزدوری اختیار کرنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ 70 یوم سے جاری حالات کے دوران کشمیر کے حالات بتدریج ابتر ہوچکے ہیں اور اب کشمیر بھی ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ملازمتوں اور تجارتی بحران کا شکار ہونے لگا ہے ۔ حکومت ہند کی جانب سے دفعہ 370اور 35A کی تنسیخ کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو جو حقائق منظر عام پر آرہے ہیں وہ رونگٹے کھڑا کردینے والے ہیں کیونکہ کشمیری عوام کو اب گولی کا نہیں حالات کا شکار بنایاجارہا ہے اور کشمیری عوام کی جانب سے خاموشی کے ساتھ اب سیول نافرمانی تحریک کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے کیونکہ اب ان حالات میں جہاںتاجرین ملازم اور ملازم مزدور بنتے جا رہے ہیں اور وادی میں لاکھوں کی تعداد میں فوج کو تعینات کیا گیا ہے تو کشمیری عوام اپنے گذر بسر کیلئے اپنے پیشے ترک کرنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ایک سے زائد تنظیمو ںکی جانب سے کشمیری عوام کی موجودہ صورتحال پر رپورٹس جاری کی گئی ہیں اور ان رپورٹس میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اب کشمیری عوام جو کہ غربت کے عالم میں بھی بھوک اور افلاس کا شکار نہیں تھے وہ اب اپنے روایتی پیشہ کو تبدیل کرتے ہوئے اپنے خاندان کی گذر بسر کیلئے مجبور ہوچکے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ سری نگر‘پہلگام‘ بڈگام کے علاوہ دیگر علاقو ںمیں تجارتی حالات انتہائی ابتر ہوتے جا رہے ہیں اور ان حالات میں اپنے خاندانوں کی پرورش کیلئے تاجرین کو ملازمت اختیار کرنی پڑرہی ہے۔ جناب محمد یعقوب نے بتایا جو حالات کشمیر میں پیدا کئے گئے ہیں ان حالات میں وہ اپنی تجارت جاری رکھنے کے موقف میں نہیں رہے اور ان حالات میں جو ان کا نقصان ہوا ہے اس کے سبب وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ جاری کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں جس کے سبب ان کے اپنے ملازمین اب مزدوری کررہے ہیں اور وہ خود کسی اور ادارہ میں ملازمت حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کیونکہ اب ان کی ذاتی تجارت کے جاری رہنے کے امکانات نہیں ہیں ۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنی دکانداری کرنے کے موقف میں نہیں ہے اسی لئے وہ ٹھیلہ بنڈی پر اپنا کاروبار کر رہے ہیں جس سے اتنی آمدنی ہورہی ہے کہ وہ اپنے اخراجات کی پابجائی کر پا رہے ہیں۔ اسی طرح سری نگر کے خانگی اسکولوں میں ٹیچرکی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ریاست کے موجودہ حالات میں وہ مقدس پیشہ سے محروم ہوچکی ہیں کیونکہ جب اسکول نہیں چل رہے ہیں تو اسکول انتظامیہ کی جانب سے ادائیگی کس طرح کی جائے گی اسی لئے بیشتر اساتذہ خدمات سے محروم ہوچکے ہیں ۔ہر شعبہ سے وابستہ ملازم طبقہ ہو یا تاجر طبقہ سب کی داستانیں یکساں نظر آرہی ہیں۔ کشمیر کے موجودہ حالات کے لئے کشمیری عوام حکومت ہند کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ کشمیری عوام کو بے بس کرنے کی کوشش ہے جس میں حکومت یہ حالات پیدا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کشمیر میں موجود خاموشی پر بھی فکر مند ہے لیکن کشمیری عوام کا کہناہے کہ وہ اب قتل عام کا موقع فراہم کرنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ جمہوری انداز میں ان حالات کا مقابلہ کریں گے۔