کشمیری اور پا کستانی الگ الگ نہیں : عارف علوی

,

   

ہماری سوچ ، ہماری مشکلات یکساں ۔ کشمیریوں کے آنسو ہمارا دل دہلا دیتے ہیں
پاکستان امن پسند ملک اور بات چیت کے ذریعہ مسئلہ کشمیر کے حل کا خواہاں
پاکستان کی 73 ویں یوم آزادی تقریب سے صدر پاکستان کا خطاب
اسلام آباد ۔ 14 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے صدر عارف علوی نے چہارشنبہ کو پاکستان کی 73 ویں یوم آزادی کی اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اور پاکستانی دراصل ایک ہی ہیں ۔ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے اس موقع پر 5 اگست کے روز ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف آرٹیکل 370 کو برخاست کرنے کے فیصلہ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس فیصلہ کے خلاف پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع ہوگا ۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے ہندوستان نے نہ صرف اقوام متحدہ کی قرارداد بلکہ شملہ معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔ دوسری طرف ہندوستان نے واضح طور پر بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ جموں و کشمیر کے خصوصی موقف آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا جانا اس کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان کو بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے ۔ اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے علوی نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ ہے اور ہم کبھی انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے کیونکہ کشمیری اور پاکستانی الگ الگ نہیں ہیں۔ ہماری سوچ یکساں ہے ، ہماری مشکلات یکساں ہیں۔ کشمیریوں کے آنسو پاکستانیوں کا دل دہلا دیتے ہیں۔ ہم کل بھی کشمیریوں کے ساتھ تھے ، آج بھی ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گے ۔ پاکستان کی اسوسی ایٹیڈ پریس نے صدر عارف علوی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ رپورٹ شائع کی ۔ عارف علوی نے کہا کہ ہندوستان عرصۂ دراز سے لائن آف کنٹرول پر عام شہریوں پر فائرنگ اور شلباری کرتے ہوئے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور مسئلہ کشمیر کی یکسوئی کی بات چیت کے ذریعہ کرنا چاہتا ہے ۔ تاہم ہندوستان اگر ہماری امن پالیسی کو ہماری کمزوری یا بزدلی سمجھتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے ۔ پاکستانی میڈیا میں بھی پاکستان کے ہر شہر میں 73 ویں یوم آزادی منانے کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں۔ 14 اگست کی صبح ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں کی سلامی اور چار صوبائی ادارالحکومتوں میں 21 ، 21 توپوں کی سلامی سے یوم آزادی تقریبات کا آغاز ہوا جہاں حکومت کے اعلیٰ سطحی عہدیداران کے علاوہ فوج کے اعلیٰ سطحی عہدیداروں نے بھی شرکت کی ۔ علاوہ ازیں مساجد میں ملک کی ترقی ، امن اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ پاکستان نے اپنا یوم آزادی (14 اگست) بطور ’’یوم یگانگت برائے کشمیر‘‘ اور ہندوستان کی یوم آزادی (15 اگست) کو یوم سیاہ کے طور پرمنانے کا فیصلہ کیا ہے جو دراصل ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی موقف آرٹیکل 370 برخاست کرنے اور ریاست کو مرکز کے تحت دو علاقوں میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کی مخالفت میں کیا جارہا ہے ۔