کشمیری خواتین کیخلاف جنسی زیادتی کی شرحسب سے زیادہ : ہیومن رائٹس واچ

   

نئی دہلی : کشمیری خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، فوج اجتماعی زیادتی کو خوف پھیلانے اور اجتماعی سزا کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حریت پسندوں کیخلاف ہندوستانی فوج انتقاماً لوٹ مار، قتل عام اور جنسی زیادتی کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، 75 سال گزرنے کے باوجود زیادتی میں ملوث کسی کردار کو سزا نہیں دی گئی۔ ایشیاء واچ کی رپورٹ کے مطابق، صرف ایک ہفتہ میں 44 ماورائے عدالت قتل اور 15جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سزا اور جزا کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے فوج کی پرتشدد کارروائیاں برسوں سے جاری ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق، فوج کے ہاتھوں 1989ء سے لے کر 2020ء تک 11ہزار 224 کشمیری خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف 1992ء میں 882 کشمیری خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔