بی جے پی کی تائید دیش بھکتی اور مخالفت ملک دشمنی، آر ایس ایس نظریہ پر عمل آوری کا الزام
حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر لیڈر محمد علی شبیر نے کشمیری خواتین کے بارے میں چیف منسٹر ہریانہ کے ریمارکس کو شرمناک قرار دیا اور کہاکہ چیف منسٹر ہریانہ نے اشتعال انگیز اور شرپسندانہ ریمارک کیا ہے جو آر ایس ایس کے نظریہ کو ظاہر کرتا ہے۔ محمد علی شبیر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ کشمیر کی دفعہ 370 کے بارے میں قوم سے خطاب کرنے سے قبل وزیر اعظم کو چاہیئے کہ وہ بی جے پی قائدین کو مخاطب کریں اور 370 کی تفصیلات سے واقف کرائیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ دفعہ 370 کی برخواستگی کے ساتھ ہی بی جے پی قائدین کشمیری عوام کے جذبات کو مجروح کرنے والے بیانات دے رہے ہیں۔ اُتر پردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی کے بعد ہریانہ کے چیف منسٹر کھتر نے کشمیری خواتین کے بارے میں انتہائی قابل اعتراض اور بے ہودہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا دفعہ 370 اسی لئے ختم کیا گیا کہ کشمیری عوام کے جذبات کو مجروح کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دراصل ملک میں آر ایس ایس ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ یکے بعد دیگرے متنازعہ مسائل پر فیصلے کرتے ہوئے ہندوتوا ایجنڈہ عوام پر مسلط کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیمیں خود کو دیش بھکت قرار دے رہی ہیں جبکہ وہ کسی اور کو دیش بھکت تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظریہ ملک کے اتحاد اور یکجہتی کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی یاد کل منائی اور مجاہدین آزادی کو خراج پیش کیا۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں علمائے کرام نے بھرپور حصہ لیا تھا برخلاف اس کے آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا جدوجہد آزادی میں شامل نہیں تھے لیکن آج دیش بھکتی کے دعوؤں میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو بی جے پی اور سنگھ پریوار کے سرٹیفکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ملک کا ہر شہری بی جے پی اور سنگھ پریوار سے زیادہ دیش بھکت ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ نفرت کی سیاست کو عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
