کشمیری مسلمانوں نے پنجاب کے غیر مسلم بڑھئی کی آخری رسومات انجام دی

   

سری نگر15مئی (سیاست ڈاٹ کام ) وسطی کشمیر کے ضلع گاندر بل میں مقامی لوگوں نے کورونا قہر کے بیچ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک غیر مسلم بڑھئی کی آخری رسومات انجام دے کر کشمیریوں کی رحم دلی اور انسان نوازی کی ایک اور مثال پیش کردی ہے ۔گاندربل کے واکورہ علاقے میں کئی برسوں سے بڑھئی کے طور پر کام کرنے والے 35 سالہ رنویر سنگھ کی لاش گذشتہ ہفتے اس کے کرایے کے کمرے میں پائی گئی۔ موت کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگ مرد و زن اس کے کمرے کے باہر جمع ہوگئے ۔رنویر کو اگرچہ اپنے دیگر ساتھیوں اور چند مقامی نوجوانوں نے ہسپتال پہنچایا لیکن وہاں اس کو مردہ قرار دیا گیا۔موجودہ حالات کے پیش نظر مقامی لوگوں نے رنویر سنگھ کے گھر والوں کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اس کی آخری رسومات اس کے ساتھیوں اور کچھ پنڈتوں کی ہدایات کے مطابق انجام دیں۔متوفی کی آخری رسومات انجام دینے کی ایک مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں جہاں ایک طرف مقامی نوجوانوں کو کورونا کے پیش نظر حفاظتی لباس لگائے ہوئے اس کی چتا کو آگ لگانے کے لئے لکڑی وغیرہ کا انتظام کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے وہیں خواتین کو اس کی موت پر آبدیدہ ہوتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے ۔یہ مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہے اور لوگ اس کو پسند بھی کررہے ہیں اور اس کو بڑے پیمانے پر شیئر کرکے حیققی کشمیریت کی تشہیر بھی کی جارہی ہے ۔