سرینگر: کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے دعویٰ کیا ہے کہ اونتی پورہ پولیس نے جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کے ایک ماڈیول اور لشکر طیبہ کے ایک ماڈیول کا پردہ چاک کرکے جنوبی کشمیر میں پیش آنے والے دو بڑے واقعات کو ٹالا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس سلسلے میں سات نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی ہے اور کار دھماکے میں استعمال کی جانی والی کار کو بھی بر آمد کیا ہے ۔موصوف انسپکٹر نے ان باتوں کا اظہار چہارشنبہ کے روز یہاں پولیس کنٹرول روم میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے ماڈیولز کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ‘اونتی پورہ پولیس گذشتہ کچھ دنوں سے دو ماڈیولز پر کام کر رہی تھی جن میں سے ایک جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کا ماڈیول تھا جو پامپور میں ایک کار دھماکہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ’۔انہوں نے کہا کہ ساحل نذیر نامی ایک بی اے کے طالب علم ، جو پامپور کا ہی رہنے والا ہے ، کو بہت دنوں سے ٹیلی گرام اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع سے پھنسایا گیا تھا اور اس کو ایک پرانی گاڑی خریدنے کے لئے پیسے بھی دئے گئے تھے جس کو دھماکے کیلئے استعمال کرنا تھا۔ کمار نے کہا کہ پولیس نے تکینکی طور نظر گذر رکھ کر ساحل نذیرگرفتار کیا۔ان کا کہنا تھا:تفتیش کے دوران ساحل نے اعتراف کیا کہ اس کا ایک اور ساتھی قیصر احمد ساکن پامپور بھی ہے جو دو برس تک جنگجو اعانت کار بھی رہا ہے ۔ پولیس نے اس کو بھی گرفتار کیا ہے ’۔موصوف نے بتایا کہ پولیس نے محمد یونس نامی شخص کو بھی گرفتار کیا ہے جس کے گھر سے وہ ماروتی کار زیر نمبر JK01E 0609 بر آمد کی گئی جس کو استعمال کرکے ان کو دھماکہ کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ یاسر احمد نامی ایک اور نوجوان کو اس سلسلے میں گرفتار کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ساحل نذیر کا ویڈیو بیان ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ سال رواں کے 25 جنوری کو پامپور میں سی آر پی ایف پر اسی نے گرینیڈ پھینکا تھا۔
