نئی دہلی 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت کے اِن دعوؤں کے مغائر کہ جموں و کشمیر میں 5 اگسٹ کو اُسے خصوصی درجہ سے محروم کردیئے جانے کے بعد سے امن قائم ہے، گزشتہ 2 ماہ میں وہاں سنگباری کے 306 واقعات پیش آنے کی اطلاع ہے۔ سکیوریٹی فورسیس کی داخلی دستاویز کے مطابق لگ بھگ 100 سکیوریٹی پرسونل جن میں سنٹرل پیرا ملٹری فورسیس کے 89 جوان شامل ہیں، پتھراؤ کے واقعات میں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ یہ واقعات دستور کے آرٹیکل 370 کی تنسیخ سے متعلق حکومت کے اقدام پر احتجاجوں کا حصہ ہیں۔ جموں و کشمیر نظم و نسق نے یہی بیان برقرار رکھا ہے کہ پتھراؤ کے یکا دکا واقعات کو چھوڑ کر وادیٔ کشمیر پرامن رہی ہے اور چند احتجاج پیش آئے ہیں۔ جبکہ 2016 ء میں برہان وانی کی موت کے بعد اِس سے کہیں زیادہ بڑا ایجی ٹیشن ہوا تھا۔ 2019 ء کے ابتدائی 6 ماہ میں سنگباری کے صرف 40 واقعات پیش آئے۔ 6 اگسٹ کو پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر کے خصوصی درجہ کو ختم کرنے کو منظوری دے دی اور ریاست کو 2 مرکزی علاقوں میں تقسیم کردیا گیا۔ حکومت کے ریکارڈ کے مطابق اِن دو ماہ میں سکیوریٹی فورسیس نے 5 انکاؤنٹر کئے جن میں 2 سکیوریٹی جوان ہلاک اور 9 دیگر زخمی ہوئے۔ 5 اگسٹ کے اقدام کے فوری بعد زبردست ایجی ٹیشن کے اندیشے پر ریاست کو عدیم المثال سکیوریٹی کے تحت ڈال دیا گیا۔ اضافی دستوں کی تعیناتی کے علاوہ حکومت نے عوام کی نقل و حرکت پر شدید تحدیدات عائد کردیئے، فون اور انٹرنیٹ لائنیں بند کردیں اور تقریباً 4 ہزار افراد کو محروس کرلیا جن کا تعلق اصل دھارے کے سیاسی طبقہ سے ہے۔