سری نگر۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اس یونین ٹریٹری میں اگلے چھ ماہ کے دوران مزید 34 آکسیجن جنریشن پلانٹ نصب کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بے شک ‘کورونا کرفیو’ کے نفاذ کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن یہ کٹھن وقت بھی گزر جائے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے اتوار کو یہ باتیں اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام عوام کی آوازکی دوسری قسط کے دوران کورونا وبا کی دوسری اور خطرناک لہر پر بات کرتے ہوئے کہی ہیں۔ انہوں نے کہا آکسیجن اور دوائوں کی کمی کا سامنا نہ ہو اس کے لئے انتظامیہ موثر اقدام اٹھا رہی ہیں۔ آج جموں و کشمیر کے ہسپتالوں میں 47 آکسیجن جنریشن پلانٹ آپریشنل ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی سے کچھ اور پلانٹ آ رہے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مئی میں یہ پلانٹ چالو ہو جائیں گے ۔ ان کا مزید کہنا تھا: ‘اگلے چھ ماہ میں مزید 34 پلانٹ نصب کئے جائیں اس کی تیاری بھی کی جا رہی ہے ۔ جموں اور سری نگر میں آکسیجن وار روم بھی اچھے سے کام کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ کٹھن وقت ہمارے صبر کا امتحان لے رہا ہے اور اس وبائی بیماری سے لڑائی میں عوام کا تعاون انتہائی اہم ہے ۔ انہوں نے کہا: ‘میں اور میری انتظامیہ کے لوگ، ڈاکٹرس اور فرنٹ لائن ورکرز بار بار لوگوں سے کورونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہم احتیاط کر کے نہ صرف اپنے آپ بلکہ اپنے خاندان کو بھی اس بیماری سے بچا سکتے ہیں۔ منوج سنہا نے کہا کہ ڈاکٹروں اور دیگر طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر سے بچنے کا طریقہ احتیاط اور سماجی برتائو میں تبدیلی ہے ۔ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ آپ سب اس مشورے پر عمل کریں گے ۔ کرفیو کے چلتے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن یہ کٹھن وقت بھی گزر جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا انتظامیہ ہر لحاظ سے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے ۔ میں آپ سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ کووڈ پروٹوکال پر عمل کرنا آج کا دھرم ہے ۔ ضرورت نہ ہو تو مہربانی کر کے گھر سے نہ نکلیں۔