سری نگر۔25فروری(سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران جہاں اردو روزناموں کی سرکیولیشن میں دوگنا اضافہ درج ہوا وہیں اسی عرصے کے دوران سری نگر سے نکلنے والے متعدد مقبول ترین اردو زبان کے رسالوں کی اشاعت بند ہوگئی۔وادی کشمیر میں اردو زبان میں اس وقت کوئی ادبی یا نیوز میگزین باقاعدگی کے ساتھ شائع نہیں ہورہا ہے جس کے باعث اس کے وسیع ترین حلقہ قارئین ورطہ حیرت میں بھی ہے اور ناراض و نالاں بھی ہے ۔قارئین اردو کا کہنا ہے کہ وادی میں نام نہاد محبین اردو کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن زمینی سطح پر اردو کے فروغ اور ارتقا کے لئے کوئی کام کرنے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں کوئی حقیقی معنوں میں اردو کا غمخوار وغمگسار ہوتا تو یہاں کم سے کم اردو اکیڈمی قائم ہوتی۔اردو صحافیوں کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں اردو روزناموں کی سرکیولیشن میں روز افزوں اضافے کے باوصف اردو زبان میں میگزین کا نایاب ہونا فہم و ادراک سے پرے ہے ۔ایک ہفتہ وار اردو میگزین اپنے مالک اور ایڈیٹر کی نامعلوم بندوق برادروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بند ہوگیا اور دوسرا میگزین سال گزشتہ کے پانچ اگست کے بعد منظر نامے سے یہاں کے سیاسی لیڈروں کی طرح لوگوں کے لوح ذہن سے بھی مٹ گیا تاہم ایف ایم ریڈیو پر اس میگزین کے اشتہار کی صدائے بازگشت ابھی بھی اطراف واکناف میں سنائی دیتی ہے لیکن میگزین کا کیا ہوا تو مشہور شعر کا یہ بند نوک زبان پر خود بخود آجاتا ہے ، زمیں کھا گئی آسمان کیسے کیسے ۔