عوام کا غذائی اجناس اور فیول کے ذخیرہ کیلئے ہجوم ۔ وزیر داخلہ کا اعلی سکیوریٹی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس
سرینگر 4 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں آج بھی صورتحال بے چینی والی رہی جہاں حکام نے اہم تنصیبات اور حساس علاقوں کی سکیوریٹی میں اضافہ کردیا ہے جبکہ ریاست میں دہشت گردی کا خطرہ لاحق بتایا گیا ہے اور پاکستان کے ساتھ لائین آف کنٹرول پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ جموںو کشمیر انتظامیہ کی جانب سے امرناتھ یاترا کا دورانیہ کم کئے جانے اور یاتریوں اور سیاحوں سے وادی سے نکل جانے کی ہدایت کے بعد وادی کے شہریوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور وہ بازاروں کے چکر لگاتے ہوئے اشیاء ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے لگے ہیں اور دوکانوں اور فیول اسٹیشنوں کے باہر عوام کی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔ سابق ہندوستانی آل راونڈر عرفان پٹھان جو جموں و کشمیر کی ریاستی ٹیم کے کوچ اور مینٹر ہیں اور وہ سرینگر میں انڈر 16 ٹرائیلس کی نگرانی کیلئے موجود تھے وہ بھی سرینگر سے نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ روانہ ہوچکے ہیں۔ پٹھان نے بتایا کہ ہم نے کچھ وقت کیلئے جونئیر ٹرائیلس کے دوسرے مرحلہ کو ملتوی کردیا ہے ۔ اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان لڑکوں کو ان کے گھروں کو واپس بھیج دیا جائے ۔ کئی تعلیمی اداروں نے اپنے طلبا کو بھی ہاسٹلس کا تخلیہ کردینے کی ہدایت دی ہے ۔ اضافی نیم فوجی دستے جو یہاں گذشتہ ہفتے آئے تھے وہ سارے شہر میں متعین کئے جا رہے ہیں اور وادی کے دوسرے حساس مقامات پر بھی ان کی تعیناتی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ شہر میں اہم تنصیبات اور سیول سیکریٹریٹ ‘ پولیس ہیڈ کوارٹرس ‘ ائرپورٹ اور مرکزی حکومت کے کئی اداروں کے باہر سکیوریٹی عملہ کی تعداد میں بھی اضافرہ کردیا گیا ہے ۔
کئی اہم سڑکوں پر رکاوٹیں پیدا کردی گئی ہیں۔ سرینگر کے داخلہ اور اخراج کے مقامات پر بھی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ فسادات پر قابو پانے والی گاڑیوں کو کچھ علاقوں میں تیار رکھا گیا ہے کیونکہ لا اینڈ آرڈر کے بگڑنے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلی سکیوریٹی عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا اور سمجھا جا رہا ہے کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ ایک گھنٹہ طویل اجلاس میں مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول ‘ مرکزی معتمد داخلہ راجیو گئوبا اور دوسرے سینئر عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جبکہ سکیوریٹی فورسیس کی پاکستانی دستوں کے ساتھ لائین آف کنٹرول پر جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ فوج کی جانب سے کیران سیکٹر میں پاکستانی بارڈر ایکشن ٹیم کی در اندازی کی کوشش کو بھی ناکام بنادیا گیا تھا ۔ فوج نے پانچ در اندازوں کو ہلاک بھی کردیا تھا ۔ ہندوستانی فوج نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے کہا ہے کہ وہ صلح کا سفید پرچم لہرائیں اور اپنی نعشیں حاصل کرلیں۔ اس دوران گورنر جموں و کشمیر ستیہ پال ملک نے ان اندیشوں کو مسترد کردیا ہے کہ مرکز کی جانب سے دفعہ 35A کو منسوخ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے ۔
