کشمیر میں بند اور جھڑپوں کے درمیان یوروپی یونین وفد کی آمد

,

   

صورتحال کا جائزہ لینے دو روزہ دورہ کا آغاز، متعدد مقامات پر سڑکیں بند، عوام اور سکیوریٹی فورسیس میں تصادم

سرینگر 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے یوروپی یونین کا 23 رکنی پارلیمانی وفد آج یہاں پہونچا۔ اس موقع پر وادی میں مکمل بند تھا اور متعدد مقامات پر عوام اور سکیوریٹی فورسیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ سکیوریٹی گاڑیوں کا ایک قافلہ ان ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ تھا۔ یہ ارکان ایرپورٹ سے ایک بلٹ پروف جیپ کے ذریعہ اپنی ہوٹل پہونچے جہاں روایتی استقبال ان کا منتظر تھا۔ یہ ٹیم اپنے دو روزہ دورہ پر یہاں پہونچی تھی جہاں سینئر سکیوریٹی افسران نے انھیں وادی اور ریاست کے دیگر علاقوں کی تازہ ترین صورتحال سے واقف کروایا۔ وفد نے عوام سے بھی ملاقات کی۔ عہدیداروں نے کہاکہ وادی کے مختلف حصوں اور سرینگر میں مکمل بند رہا۔ سکیوریٹی فورسیس اور عوام کے درمیان کئی مقامات پر تصادم کے واقعات پیش آئے۔ سرینگر کے وسطی علاقے اور 90 فٹ چوڑی سڑک کے علاوہ اس شہر کے دیگر کم سے کم پانچ مقامات پر عوام نے رکاوٹیں کھڑا کرتے ہوئے راستوں کو بند کردیا تھا۔ سڑکوں کے کنارے چھوٹے کاکروبار کرنے والے افراد آج اپنی دوکانات نہیں لگائے تھے۔ تاہم 10 ویں جماعت کے بورڈ امتحان مقررہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوئے۔ اس دوران طلبہ کے فکرمند والدین اور سرپرست امتحانی مراکز کے باہر اپنے بچوں کے انتظار میں کھڑے دیکھے گئے۔ جموں و کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دستوری دفعہ 370 کی مرکز کی طرف سے 5 اگسٹ کو تنسیخ اور اس ریاست کو دو مرکزی زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کئے جانے کے بعد یوروپی یونین کے 23 ارکان پارلیمنٹ اس ریاست کے پہلے اعلیٰ سطحی دورہ کنندگان ہیں۔ یوروپی یونین کا یہ پارلیمانی وفد دراصل 27 ارکان پر مشتمل ہے جس میں اکثر انتہائی دائیں بازو اور دائیں بازو جماعتوں کے ارکان ہیں۔ لیکن چار ارکان کشمیر کا دورہ نہیں کرسکے اور اپنے متعلقہ ملکوں کو واپس چلے گئے۔ عہدیداروں نے مزید تفصیلات کا انکشاف کئے بغیر ان چار ارکان کی اپنے ملک واپسی کی اطلاع دی۔