سرینگر5نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں گزشتہ زائد از تین ماہ سے انٹرنیٹ سروس کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس سروس پر جاری پابندی سے لوگوں خاص طور پر طلبا، تجار اور صحافیوں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔بتادیں کہ وادی کشمیر میں پانچ اگست سے انٹرنیٹ سروس مسلسل معطل ہیں اگرچہ پوسٹ پیڈ موبائل فون سروس بحال ہوئی ہے لیکن ایس ایم ایس سروس بند ہی ہے ۔ایس ایم ایس سروس بند رہنے سے جہاں طلبا سکالر شپ فارم، بیرون ریاست کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ فارم جمع کرنے بلکہ نوکریوں کے لئے فارم جمع کرنے سے قاصر ہیں وہیں بیرون ریاست تجارت یا کسی دوسرے کام کا ارادہ رکھنے والے لوگ ہوائی ٹکٹ نہیں نکال پارہے ہیں۔طلبا کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایم ایس سروس بند رہنے سے ہم کسی قسم کا فارم جمع ہی نہیں کرپارہے ہیں کیونکہ ہمارے موبائل فون نمبرات پر او ٹی پی موصول نہیں ہورہا ہے ۔