خطہ کے امن کیلئے خطرہ ۔انسانی حقوق کی پامالی ۔متعدد شخصیتوں کا اظہار تشویش
حیدرآباد۔16اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت ہند کے کشمیر میں کئے جانے والے اقدامات حکومت کی آئین و دستور ‘ سیکولر ازم اور جمہوری اقدار سے انحراف کی علامت ہے جس سے جنوبی ایشیاء میں حالات ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ کشمیر کو جس طرح سے حکومت نے مکمل محروس کیا ہوا ہے ۔یہ ملک کی 120 کروڑ کی آبادی کے حق میں بہتر نہیں ہے اور انتہائی تشویشناک بات ہے کیونکہ گذشتہ 7دہائیوں سے ہندستان کے عوام جمہوری اقدار سے ثمرات سے استفادہ کر رہے تھے اور اب جموں و کشمیر کے جو حالات بنائے گئے ہیں وہ خطہ کے امن کیلئے خطرہ اور انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے مترادف ثابت ہو رہے ہیں۔عالمی سیاسی ‘ صحافتی‘ سماجی ‘ وکلاء اور انسانی حقوق کی علمبردار شخصیتوں کی جانب سے حکومت ہند کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔250 سے زائد دانشور ‘ صحافی‘ سماجی کارکنوں اور فنکاروں نے حکومت ہند کی جانب سے وادی میں عائد کی گئی پابندی کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حالات جمہوری اقدار کے منافی ہیں اور ان حالات میں آواز اٹھاتے ہوئے حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے خاتمہ کیلئے جدوجہد کی جانی چاہئے ۔ دستخط کرنے والوں نے حکومت ہند کے اس عمل کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی خصوصی دفعہ 370 کو جس انداز میں برخواست کیا گیا ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ملک کے حالات اور حکومت کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بیان جاری کرنے والوں میں پروفیسر پارتھا چٹرجی‘ شیلڈان پولاک‘ صحافی اے ایس پنیرسیلون‘ شرمین عبید شنائے‘معروف تاریخ داں عائشہ جلال‘ شاہد العالم‘ کل چندرا گوتم‘چندرا تالپاڈے موہنتی‘ایم وی رمنا ‘ پرویز ہود بھائی ‘مارتھا نسباؤم کے علاوہ دیگر اہم شخصیتیں شامل ہیں۔بیان میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی کاروائی کو دستور ‘ جمہوری اصولوں اور سیکولر ازم کے عدم احترام کی دلیل قرارد یتے ہوئے حکومت سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ فوری کشمیر میں عائد پابندیوں کو برخواست کرتے ہوئے عوام کی آزادی اور مواصلاتی نظام کو بحال کرنے کے اقدامات کریں ۔ عالمی شہرت یافتہ ان دانشوروں نے کہا کہ وہ انسانی حقوق اور آزادی کی خواہش رکھنے والے ہر ذی روح کا احترام کرتے ہیں اور جو آزادی کو تحفظ فراہم کرے اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
