سری نگر۔25 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں ماہ صیام کا آغاز مسلح تشدد سے ہوا ہے ۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور کولگام اضلاع میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو مسلح تشدد کی دو الگ الگ وارداتوں میں چار جنگجو اور پولیس کے دعوے کے مطابق ایک جنگجوئوں کا ایک کٹر حمایتی و ساتھی مارا گیا۔ اس دوران جموں وکشمیر پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوگئے جن میں اغوا کاروں سے بچایا جانے والا ریلوے پولیس اہلکار بھی شامل ہے ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع پلوامہ کے گوری پورہ اونتی پورہ میں جمعہ کی رات دیر گئے چھڑنے والا مسلح تصادم ہفتہ کی علی الصبح دو جنگجوئوں اور ان کے ایک کٹر ساتھی کی ہلاکت پر ختم ہوگیا۔قبل ازیں ضلع کولگام کے ہیرپورہ فرصل میں ہونے والے شوٹ آوٹ میں دو جنگجو مارے گئے اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ مہلوک جنگجوئوں نے جس ریلوے پولیس اہلکار کو اغوا کیا تھا کو بچایا گیا ہے ۔ تاہم شوٹ آوٹ میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں میں وہ بھی شامل ہے ۔سرکاری ذرائع نے پلوامہ تصادم کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اونتی پورہ کے گوری پورہ نامی گائوں میں جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فوج کی 50 آر آر، اونتی پورہ پولیس اور سی آر پی ایف نے گذشتہ رات دیر گئے مذکورہ علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ تلاشی آپریشن کے دوران جنگجوئوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے درمیان مسلح تصادم چھڑ گیا جو دو جنگجوئوں اور ان کے ایک کٹر ساتھی کی ہلاکت پر ختم ہوگیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مہلوک جنگجوئوں کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔دریں اثنا آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کولگام شوٹ آوٹ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوئوں نے گذشتہ شام شر پورہ فرصل سے ریلوے پولیس کے ایک اہلکار کو اغوا کیا۔انہوں نے کہا: ‘اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے سیکورٹی ناکوں کو الرٹ کیا۔ ریلوے پولیس اہلکار کو اغوا کرنے والے جنگجوئوں کی گاڑی جب ہیر پورہ نامی گائوں پہنچی تو وہاں پولیس اور فوج کی فرسٹ آر آر نے اس گاڑی کو روکا جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا۔آئی جی پی نے کہا کہ گولیوں کے تبادلے میں دو جنگجو مارے گئے اور مغوی اہلکار سمیت پولیس کے دو اہلکار زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کے لئے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مہلوک جنگجوئوں کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے ۔دریں اثنا دونوں مسلح وارداتوں کے حوالے سے متعلقہ علاقوں کے پولیس تھانوں میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔