محکمہ سیاحت کشمیر کا ادعا ، حکومت ہند کے انتباہ کی برخاستگی کے باوجود سیاحوں کی عدم توجہ
حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت ہند نے کشمیر میں سیاحوں کے لئے جاری کردہ انتباہ کو برخواست کئے جانے کے باوجود کشمیر میں سیاحتی شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے کوئی مثبت رد عمل ظاہر نہیں کیا جا رہاہے بلکہ یہ کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے دفعہ 370اور 35Aکی تنسیخ کے فیصلہ کے ساتھ جاری کردہ سیاحوں کیلئے انتباہ کشمیر کے حق میں تباہ کن ثابت ہوا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہاہے کہ کشمیر میں جاریہ سال کے دوران 6لاکھ سیاحوں کی آمد متوقع ہے اور ہندستانی شہروں کے علاوہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ کشمیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے کئے گئے اقدامات پر اس انتباہی نوٹس کو سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کا کہناہے کہ اب تک جو ماحول تیار کرتے ہوئے صورتحال بنائی گئی تھی اب وہ صورتحال دوبارہ بحال ہونا ممکن نہیں ہے۔2اگسٹ کو حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کے سفر اور سیاحوں کیلئے جاری کئے گئے انتباہ کو 10اکٹوبر تک جاری رکھا گیا اور 10 اکٹوبر کو یہ انتباہ برخواست کیا گیا لیکن اب تک سیاحوں کی جانب سے کوئی مثبت رد عمل ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے لیکن محکمہ سیاحت کشمیر کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران سیاحت کو زبردست فروغ دینے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 2اگسٹ کو جاری کئے گئے انتباہ میں کسی کو کشمیر سے تخلیہ کرنے کیلئے نہیں کہا گیا تھا لیکن سیاحوں نے کشمیر کو چھوڑدیا جس کے سبب سیاحت کے شعبہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن آئندہ چند دنوں میں ان نقصانات کی پابجائی ہونے کے قوی امکان ہے۔ کشمیر کی سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت ہند کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے نتیجہ میں سال 2012کے دوران کشمیر میں 8لاکھ 30ہزار 857سیاحوں نے تفریح کی اور وقت گذارا لیکن اب حالات انتہائی ابتر ہوچکے ہیں اور گذشتہ 3ماہ کے دوران ایک بھی کشتی کرایہ پر نہیں گئی اور نہ کسی ایک سیاحتی مقام پر ہوٹل کے کمرے کرایہ پر گئے ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ سیاحت کی جانب سے اس توقع کا اظہار کیا جا رہاہے کہ سیاحوں کیلئے جاری کردہ انتباہ سے دستبرداری اختیار کئے جانے کے بعد حالات تبدیل ہوجائیں گے لیکن سیاحتی صنعت کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ فوری طور پر حالات تبدیل ہونے کے کوئی امکان نظر نہیں آرہے ہیں کیونکہ عوام اب بھی کشمیر کے متعلق مخمصہ کا شکار ہے اور حالات کے معمول پرآنے تک کشمیر کی سیاحتی صنعت مکمل تباہ ہوجانے کا خدشہ ہے۔