سری نگر28اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی منسوخی اور ریاست کو دو حصوں میں منقسم کرنے کے اعلان کے خلاف وادی کشمیر میں پیر کے روز غیر اعلانیہ ہڑتال کے 85 ویں دن بھی معمولات زندگی تواتر کے ساتھ متاثر رہے ۔ تاہم ہر گزرتے دن کے ساتھ جہاں سڑکوں پر نجی ٹرانسپورٹ کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے وہیں اب چھوٹی مسافر گاڑیاں بھی سڑکوں پر دوڑنے لگی ہیں جس کے نتیجے میں سڑکوں پر ٹریفک جام بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق پیر کے روز بھی وادی کے اطراف و اکناف میں ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر رہے ۔ شہر سری نگر کے تمام علاقہ جات بشمول تجارتی مرکز لالچوک میں دن کے وقت دکانیں بند اور تجارتی سرگرمیاں متاثر رہیں۔ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا تاہم نجی ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل معمول سے زیادہ ہی دیکھی گئی، علاوہ ازیں کچھ چھوٹی مسافر گاڑیوں کو بھی چلتے ہوئے دیکھا گیا جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں صبح کے وقت لوگوں کو ٹریفک جام سے دوچار ہونا پڑا۔ سری نگر کے تمام بازار پیر کے روز بھی علی الصبح کھل گئے اور بعد ازاں گیارہ بجنے سے قبل ہی یکایک بند ہوگئے ۔ تمام بازاروں میں صبح کے وقت گاہکوں کا بھاری رش دیکھا گیا۔ وادی کے دوسرے علاقوں میں بھی بازار شام کو کھل گئے جس دوران لوگوں نے اشیائے ضروریہ کی جم کی خریداری کی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اب وادی میں اب صبح اور شام کے وقت شاپنگ کرنا ایک معمول کی صورت اختیار کر گیا ہے اور ہر شخص اب اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لئے صبح یا شام کے وقت ہی گھر سے نکلتا ہے ۔یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پیر کی صبح شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے بتہ مالو، پولو ویو، ریذیڈنسی روڑ، لالچوک، جہانگیر چوک، ڈل گیٹ، وغیرہ میں چھاپڑی فروشوں کو گرم ملبوسات، سبزیاں، پھل وغیرہ بیچتے ہوئے دیکھا۔ اس کے علاوہ اضلاع کو سری نگر سے جوڑنے والی سڑکوں پر چھوٹی مسافر گاڑیوں کو بھی چلتے ہوئے دیکھا۔ شہر سری نگر کی طرح وادی کے دوسرے ضلع صدر مقامات و قصبہ جات میں بھی پیر کے روز دن بھر بازار بند رہے اور تجارتی سرگرمیاں مفلوج رہیں اورسڑکیں پبلک ٹرانسپورٹ سے خالی رہیں تاہم نجی ٹرانسپورٹ حسب معمول جاری رہا۔وادی میں سرکاری دفاتر اور بنکوں میں اگرچہ کام کاج بحال ہوچکا ہے لیکن تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل برابر معطل ہے ۔ تعلیمی ادارے کھلے رہتے ہیں اور عملہ بھی ان میں حاضر رہتا ہے لیکن طلبا کلاس روموں کے بجائے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر والدین بھی اپنے بچوں کو اسکول یا کالج بھیجنے میں ہچکچاتے ہیں۔وادی میں جہاں پانچ اگست سے ریل سروس بند ہے وہیں انٹرنیٹ سروس بھی مسلسل معطل ہے تاہم مواصلاتی نظام پر عائد پابندی کو بتدریج ہٹایا جارہا ہے ۔ ریلوے حکام کے مطابق ریل سروس کو لوگوں، ریلوے عملے اور املاک کے تحفظ کے لئے بنا بر احتیاط معطل رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ اور محکمہ پولیس کی طرف گرین سگنل موصول ہونے کے بعد ہی ریل سروس کا بحال کیا جائے گا۔