کشمیر میں مواصلاتی بلیک آؤٹ فوری ختم کرنے امریکی قانون سازوں کا زور

,

   

انسانیت اور انسانی حقوق کے بحران پر ہمیں شدید تشویش لاحق ہے ۔ مائیک پومپیو کے نام پرامیلا جئے پال اور پی مک گوورن کا مکتوب

کشمیر میں عام زندگی 39 ویں دن بھی متاثر
سرینگر 12 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں عام زندگی ہنوز متاثر ہے کیونکہ ریاست میں دفعہ 370 کی برخواستگی اور ریاست کی تقسیم کے بعد سے39 ویں دن بھی اسکولس بند رہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ وادی میں عوام کے اجتماعات یا نقل و حرکت پر تحدیدات کو ختم کردیا گیا ہے تاہم سکیوریٹی فورسیس کو وہاں لا اینڈ آرڈر کی برقراری کیلئے متعین رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکام کی جانب سے موبائیل مواصلات اور وائیس کال سروسیس کو بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ وادی میں لینڈ لائین فون کالس کو بحال کردیا گیا ہے تاہم موبائیل پر وائس کالس صرف کپواڑہ اور ہند واڑہ پولیس حدود میں کام کر رہے ہیں۔

واشنگٹن 12 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی امریکن کانگریس رکن پرامیلا جئے پال نے ایک اور امریکی قانون ساز کے ساتھ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو سے کہا ہے کہ وہ ہندوستان پر کشمیر میں مواصلاتی بلیک آوٹ ختم کرنے کیلئے دباو ڈالیں اور اس بات کیلئے بھی زور دیا جائے کہ جن لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے انہیںر ہا کیا جائے ۔ پومپیو کے نام 11 ستمبر کو روانہ کردہ مکتوب میں جئے پال اور ساتھی کانگریس کے رکن پی مک گوورن نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا اور آزاد حقوق انسانی اداروں کو فوری طور پر جموںو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے تاکہ وہاں ایذا رسانی کے الزامات کی تحقیقات کی جاسکیں۔ پرامیلا جئے پال ایوان نمائندگان اب تک کی پہلی اور واحد کانگریس رکن ہیں۔ کانگریس ارکان نے مائیک پومپیو کے نام مکتوب میں ان سے خواہش کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ ہندوستان پر دباو ڈالا جائے کہ وہ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آوٹ کو ختم کرے ‘ جن لوگوں کو احتیاطی طور پر گرفتار کیا گیا ہے یا حراست میں کہا گیا ہے ان کے معاملات پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں رہا کیا جائے ‘ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دواخانوں میں زندگی بچانے والی ادویات دستیاب ہوں اور کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور عبادت کیلئے اجتماع کی آزادی دی جائے۔ دونوں قانون سازوں نے پومپیو کے نام مکتوب میں کہا ہے کہ انہیں کشمیر میں انسانی اور انسانی حقوق کے بحران پر شدید تشویش لاحق ہے ۔ خاص ور پر وہ ان رپورٹس پر متفکر ہیں کہ حکومت ہند نے ہزاروں افراد کو کسی وجہ کے بغیر گرفتار کرلیا ہے ۔ وہاں بلاواسطہ کرفیو نافذ کردیا ہے ۔ انٹرنیٹ ختم کردیا گیا ہے اور سارے علاقہ میںفون کنکشن بھی بحال نہیں ہیں۔ ان قانون سازوں کا کہنا ہے کہ وہ صحافیوں اور ایڈوکیٹس کے ذریعہ ملنے والی ان اطلاعات کی وجہ سے متفکر ہیں۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں 5 اگسٹ کو اس وقت تحدیدات عائد کردی گئی تھیں جب دفعہ 370 کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی موقف کو ختم کردیا گیا تھا اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظاموں علاقوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ یہ علاقے جموںو کشمیر اور لداخ ہیں۔ دونوں قانون سازوں نے اپنے مکتوب میں کہا کہ ہم حکومت ہند سے یہ اپیل بھی کرتے ہیں کہ وہ مذہبی رواداری کو بھی یقینی بنائے جو ہندوستانی تاریخ اور جمہوریت کا قدیم روایات رہی ہیں اور ان کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ پرامیلا جئے پال نے اس مکتوب کو ایک ٹوئیٹ میں ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جموںو کشمیر میں انسانی بحران کی قابل بھروسہ اطلاعات پر فکرمند ہیں ۔ پیچیدہ صورتحال میں بھی ہم ہندوستان جیسے مستحکم جمہوری حلیفوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنائے گا ۔ یہ واضح کرتے ہوئے دفعہ 370 کی تنسیخ ہندوستان کا داخلہ مسئلہ ہے ہندوستان نے وادی کشمیر میں تحدیدات کی مدافعت کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ایسی تحدیدات پاکستان کی جانب سے وادی میں کسی بھی طرح کی شرارت سے بچنے کیلئے عائد کی گئی ہیں۔ ہندوستان کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ اور موبائیل خدمات کا پاکستان اور دہشت گردوں کی جانب سے آسانی سے استعمال کرنے کے خدشات ہیں۔
تاکہ وہاں تخریب کار سرگرمیوں کو ہوا دی جاسکے ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان خدمات کی معطلی سے عوام کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ہونا چاہئے ۔