کشمیر میں مکمل بند کا 26 واں دن، سری نگر کی سڑکیں پھر ویران

,

   

سری نگر، 30 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر جمعہ کو مسلسل 26 ویں روز بھی مکمل طور پر بند رہا۔ جمعہ کو سری نگر کے بیشتر حصوں اور دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات میں لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر سخت ترین پابندیاں نافذ رہیں جبکہ دیگر حصوں میں دفعہ 144 کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے ۔ وادی کی متعدد مساجد اور امام بارگاہوں بالخصوص سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل چوتھے جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انتظامیہ نے سری نگر کا قلب کہلائے جانے والے تاریخی لالچوک کی طرف جانے والی بیشتر سڑکوں کو خاردار تار سے بند کردیا تھا۔ مختلف اضلاع کو سری نگر کے ساتھ جوڑنے والی سڑکوں پر خاردار تار بچھائی گئی تھی۔ ان سڑکوں پر تعینات ہزاروں سیکورٹی فورسز اہلکار کسی بھی گاڑی کو لال چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔ ایمبولنس اور سرکاری ملازمین کی گاڑیوں کو بھی لال چوک کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح سری نگر کے ڈاون ٹاون کا دورہ کیا نے بتایا کہ ڈاون ٹاون میں کرفیو نافذ ہے اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اور دیگر صحافیوں کو ایک بار پھر نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نہیں آنے دیا جارہا ہے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں جمعہ کو مسلسل 26 ویں روز بھی دکانیں اور دیگر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا۔ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے اور سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری بہت کم دیکھی گئی۔

کپواڑہ ضلع میں بعض زمروں کی موبائل خدمات بحال
سرینگر۔30 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے بعض عہدیداروں نے جمعہ کے دن بتایا کہ وادی کے کپوارہ ضلع میں بعض زمرہ جات کی داخلی کال (ان کمنگ کال) کی موبائل خدمات دوبارہ شروع کردی گئی ہیں۔ بی ایس این ایل ، جیو اور وڈافون کے ’’بعض از خدمت‘‘ صارفین کی ان کمنگ کال کی بحالی عمل میں آچکی ہے۔ اس فیصلے سے کشمیر کے شمالی سرحدی ضلع کے لوگوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ بعض عہدیداروں کے بیان کے بموجب بیرونی کال (آئوٹ گوئنگ کال) کی موبائل خدمات کے معاملے میں بعض تکنیکی مسائل حائل ہیں اور ان مسائل پر قابو پانے کے لیے کچھ وقت لگے گا۔ ’’قبل از ادائیگی‘‘ (پری پیڈ) صارفین کی خدمات ابھی بحال نہیں کی گئی ہیں۔ لینڈ لائین ، موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا تھا جب حکومت نے دفعہ 370 کو منسوخ کردیا تھا۔