بارہمولہ 15۔جنوری )ایجنسیز)کشمیر میں ایک نئے قائم شدہ میڈیکل کالج کو اس وقت بند کر دیا گیا جب اس کے پہلے ہی بیاچ میں مسلم طلبہ کی واضح اکثریت سامنے آئی۔ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ، جو ضلع ریاسی میں واقع ہے، کو نیشنل میڈیکل کمیشن نے چھ جنوری کو طبی تعلیم کی اجازت سے محروم کر دیا۔کالج میں داخل ہونے والے 50 طلبہ میں 42 مسلمان، سات ہندو اور ایک سکھ شامل تھے۔ یہ داخلے مکمل طور پر ملک گیر مقابلہ جاتی امتحان نیٹ کے ذریعے ہوئے تھے، جو مذہب سے بالاتر ہو کر میرٹ کی بنیاد پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مقامی ہندو تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ مسلم طلبہ کے داخلے منسوخ کیے جائیں۔احتجاجی مظاہرین کا مؤقف تھا کہ چونکہ یہ ادارہ ایک ہندو مذہبی ٹرسٹ کے تحت قائم کیا گیا ہے، اس لیے غیر ہندو طلبہ کو یہاں تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں۔ یہ مظاہرے کئی ہفتوں تک جاری رہے اور کالج کے باہر روزانہ نعرے بازی ہوتی رہی۔اسی دوران حکمراں جماعت کے بعض نمائندوں نے خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ اس کالج میں داخلے صرف ہندو طلبہ تک محدود کیے جائیں۔ بعد ازاں مطالبات اس حد تک بڑھ گئے کہ کالج کو مکمل طور پر بند کرنے کی بات کی جانے لگی۔چھ جنوری کو نیشنل میڈیکل کمیشن نے اعلان کیا کہ کالج طبی تعلیم کے بنیادی معیارات پر پورا نہیں اترتا، جس میں تدریسی عملہ، مریضوں کی تعداد، لائبریری اور آپریشن تھیٹر کی کمی شامل ہے۔ اگلے ہی دن کالج کی اجازت نامہ بھی واپس لے لیا گیا۔تاہم طلبہ اور ان کے اہل خانہ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ کئی طلبہ کا کہنا تھا کہ کالج میں سہولیات دیگر سرکاری میڈیکل کالجوں سے بہتر تھیں اور کسی قسم کی تعلیمی کمی محسوس نہیں ہوئی۔سیاسی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا کہ اگر کالج میں واقعی بنیادی خامیاں تھیں تو پھر اسے ابتدا میں اجازت کیسے دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ہفتوں میں انفراسٹرکچر خراب ہونے کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔کالج کی منظوری منسوخ ہونے کے بعد طلبہ کو گھروں واپس جانا پڑا، جبکہ کئی طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ بارہمولہ کی ایک طالبہ نے کہا کہ انہوں نے ملک کے مشکل ترین امتحان میں کامیابی حاصل کی، مگر اب ان کا مستقبل غیر یقینی ہو چکا ہے۔کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ طلبہ کو دیگر میڈیکل کالجوں میں اضافی نشستوں پر داخلہ دیا جائے گا تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ انہوں نے اس واقعے کو طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھیل قرار دیا۔تعلیمی اور طلبہ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات تعلیم کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی خطرناک مثال قائم کر رہے ہیں۔
