کشمیر میں نئی ترک این جی او کی رسائی ، انٹلیجنس چوکس

   

سرینگر: ہندوستانی انٹلیجنس ایجنسیوں نے ترکی سے مربوط خیراتی تنظیموں کے بارے میں سیکوریٹی چھان بین شروع کردی ہے کیونکہ یہ تنظیمیں گذشتہ ایک سال کے دوران جموں و کشمیر میں یکایک سرگرم ہوئی ہیں۔ گذشتہ سال اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے ترک صدر رجب طیب اردغان نے پرجوش تقریر میں کشمیر کے تعلق سے پاکستان کے احساسات کی عملاً تائید وہ حمایت کی تھی۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ عالمی اقوام کو کشمیر کے معاملے کا جائزہ لینا چاہئے۔ قومی سلامتی کے منصوبہ ساز نے کہا کہ انٹلیجنس کی تحقیقات انفرادی اشخاص اور غیرنفع بخش تنظیموں نیز غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ انٹلیجس ایجنسیوں کو فکر ہیکہ ترک تنظیم کشمیر میں اپنا وجود پھیلانے میں کامیاب نہ ہونے پائے کیونکہ کشمیر اور مسلمانوں کے معاملہ میں مودی حکومت کا ترکی کے ساتھ اختلاف رہا ہے۔ قومی سلامتی کے منصوبہ ساز نے یہ بھی کہاکہ آگے چل کر زیادہ جامع تحقیقات کا حکم دیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل خاص گروپوں اور اشخاص کی نشاندہی کرنا پڑے گا جو ’سرخ لکیروں‘ کو پھلانگ رہے ہیں۔ دوسرے سطح کی تحقیقات میں بیرونی فنڈس اور ان کے استعمال کی سختی سے چھان بین ہوسکتی ہے۔ انٹلیجنس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہ رمضان کے دوران ترک تنظیمیں اعانت کے مقصد سے کشمیریوں کے قریب ہوئیں۔