کشمیر میں ’ٹارگٹ کلنگز‘ کے بعد سیکورٹی مزید چوکس

   

سرینگر: حالیہ دنوں کے دوران پولیس اہلکاروں پر ہوئے حملوں کے واقعات کے پیش نظر سرینگر میں چہارشنبہ کے روز سیکورٹی کو مزید چوکس کر دیا گیا ہے ۔شہر کے کئی مقامات پر سیکورٹی فورسز نے ناکے لگا دیے ہیں جہاں مسافر بردار گاڑیوں خاص کر دو پہیہ گاڑیوں کی تلاشی کی جاتی ہے ان میں سوار مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے جاتے ہیں اور ان سے پوچھ گچھ بھی جاتی ہے ۔بتا دیں کہ سرینگر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران دو پولیس اہلکاروں کو نامعلوم اسلحہ براداروں نے گولیاں بر سا کر ہلاک کر دیا ہے ۔ یہ دونوں واقعات شام کے وقت پیش آئے ۔منگل کی شام سرینگر کے نوگام علاقے میں پرویز احمد ڈار نامی ایک سی آئی ڈی انسپکٹر کو گولیوں مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ 17 جون کی شام سرینگر کے عید گاہ علاقے میں جاوید احمد کمبے نامی ایک پولیس اہلکار کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ابدی نیند سلا دیا گیا تھا۔یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے منگل کے روز سرینگر کے کئی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ شہر میں سیکورٹی کو مزید چوکس کر دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے کئی اہم چوراہوں پر ناکے لگا دیے ہیں جہاں وہ مسافر بردار گاڑیوں کی تلاشی کرتے ہیں اور مسافروں کے شناختی کارڈ بھی چیک کر کے ان سے پوچھ گچھ بھی کی جاتی ہے ۔موصوف نے بتایا کہ ناکوں پر خاص طور پر دوپہیہ والی گاڑیوں جیسے موٹر سائیکل سواروں کو روکا جاتا ہے اور ان سے زیادہ ہی باریک بینی سے پوچھ تاچھ کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات ہے ۔