سری نگر 27ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں جمعہ کے روز غیر معمولی ہڑتال کے ساتھ ساتھ گرمائی دارالحکومت سری نگر اور دیگر 9 اضلاع کے قصبہ جات میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رہیں۔ اس دوران وادی میں 5 اگست کو دفعہ 370 کی منسوخی اور ریاست کی تقسیم کے خلاف شروع ہونے والی ہڑتال جمعہ کو 54 ویں دن میں داخل ہوگئی۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور ریل خدمات کی معطلی بھی جاری ہے۔وادی کی کچھ مساجد بالخصوص سری نگر کے نوہٹہ میں واقع تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل آٹھویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ زائد از 600 سال قدیم یہ مسجد 5 اگست سے مقفل ہے اور اس کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اہلکار تعینات ہیں جو کسی بھی شہری یا صحافی کو جامع مسجد کے نزدیک جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق جو جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے ، کو اپنی رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا ہے ۔ادھر انتظامیہ نے جمعہ کی صبح سری نگر کے سول لائنز میں تاریخی لال چوک کے گھنٹہ گھر کی طرف جانے والی تمام سڑکیں سیل کیں۔ اس کے علاوہ نزدیک میں واقع مائسمہ جو کہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین یاسین ملک کا گڑھ ہے ، کی طرف جانے والی سڑکیں بھی خاردار تار سے سیل کی گئیں۔