سرینگر ۔ 25 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کی قیادت میں پانچ رکنی وفد نے نیشنل کانفرنس کے لیڈر مصطفی کمال اور صدر عوامی نیشنل کانفرنس خالدہ شاہ سے ملاقات کی جو 5ا گسٹ سے گھر پر نظربند ہیں، اے این سی نے پیر کو ایک بیان میں یہ بات کہی۔ کمال اور خالدہ اصل دھارے کے نمایاں سیاسی قائدین ہیں جن سے وفد وادی میں اپنے چار روزہ قیام کے دوران ملاقات کرسکا ۔ یہ دورہ آج ختم ہوا اور یشونت سنہا نے اپنے دورہ کی رپورٹ میں کہا ہے کہ وادی کشمیر میں کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ مسائل کا انبار ہے ۔ 5 اگسٹ سے جاری تحدیدات میں سے بیشتر بدستور لاگو ہیں ۔ عوام پریشان حال ہیں اور خوف کے سائے میں جی رہے ہیں ۔ اس کا ثبوت ہے کہ پولیس اور حکام نے سکیورٹی یا دیگر مختلف وجوہات بتاتے ہوئے سنہا اور اُن کے وفد کو سرینگر سے باہر جانے نہیں دیا۔ اُنھیں موجودہ طورپر زیرحراست دیگر سیاستدانوں سے بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ۔ پولیس اور حکام کے ساتھ ہفتہ کی شب 20منٹ تک تلخ بحث و تکرار کے بعد سنہا اور اُن کی ٹیم کو صدر اے این سی بیگم خالدہ شاہ ، سینئر نائب صدر اے این سی مظفر شاہ اور ایڈیشنل جنرل سکریٹری نیشنل کانفرنس مصطفی کمال سے ملاقات کی اجازت دی گئی ، جو تمام 5 اگسٹ سے سرینگر میں ایم اے روڈ کے قریب اپنی قیامگاہوں میں محروس ہیں۔ خالدہ شاہ صدر این سی اور سرینگر ایم پی فاروق عبداﷲ کی ہمشیرہ ہیں جبکہ مصطفی کمال اُن کے برادر ہیں ۔ اے این سی نے کہاکہ دورہ کنندہ وفد کو محروس قائدین نے مرکز کے آرٹیکل 370 کے متعلق یکطرفہ فیصلہ کے بعد جموں و کشمیر کی حقیقی صورتحال سے واقف کروایا ۔ مرکز نے 5 اگسٹ کو نہ صرف جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیا بلکہ ریاست کو دو مرکزی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم بھی کردیا ۔ اے این سی نے کہاکہ یہ فیصلہ جموں و کشمیر کی بڑی اکثریت کیلئے قابل قبول نہیں ہے ۔