پولیس کا دعویٰ، محروسین کے قبضہ سے گولہ بارود برآمد
سرینگر: جموں و کشمیر پولیس نے شمالی ضلع کپوارہ کے ہندوارہ علاقے سے البدر جنگجو تنظیم سے وابستہ دو مقامی جنگجوؤں اور تین جنگجو اعانت کاروں کو گرفتار کرکے اسلحہ و گولہ بارود ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ایس ایس پی ہندوارہ سندیپ گپتا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ بارہمولہ ہندوارہ شاہراہ پر کچلو کراسنگ کے نزدیک گذشتہ روز پولیس، فوج کی آر آر اور سی آر پی ایف کی ایک ٹیم نے ناکہ لگایا تھا جس دوران ایک موٹر سائیکل پر سوار تین افراد نے مشکوک حالت میں بھاگنے کی کوشش کی۔انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ان تینوں افراد کو پکڑ لیا اور ان کی تلاشی کی گئی جس دوران ان سے گرینینڈس بر آمد کئے گئے ۔انہوں نے گرفتار شدگان کی شناخت محمد یاسین ولد محمد اکبر، شوکت احمد گنائی ولد ثںا وللہ گنائی اور غلام نبی راتھر ولد ولی محمد راتھر ساکنان کچلو قاضی آباد کے بطور کی۔ موصوف ایس ایس پی نے کہا کہ ان تین افراد کے تفتیش کے دوران انکشاف پر پولیس فوج کی 21 آر آر اور سی آر پی ایف کی 92 بٹالین نے دوسرا کارڈن ڈالا جس دوران البدر نامی جنگجو تنظیم سے وابستہ دو جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے حال ہی میں اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔گرفتار شدگان کی شناخت سلیم یوسف راتھر ولد محمد یوسف راتھر اور اخلاق احمد شیخ ولد امتیاز احمد شیخ ساکنان وترگام کے بطور ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گرفتار شدگان سے ایک پستول اور کچھ میگزین اور گولیاں بر آمد کی گئیں۔گرفتار شدگان کو پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اور بر آمد شدہ ہتھیاروں کی نمائش بھی کی گئی۔قبل ازیں ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ایک مصدقہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے فوج کی 32 آر آر اور سی آر پی ایف کی 92 بٹالین کی ایک ٹیم کے ساتھ بارہمولہ- ہندوارہ شاہراہ پر کچلو کراسنگ کے نزدیک ناکہ لگایا۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران تین جنگجو اعانت کاروں اور بعد میں البدر سے وابستہ دو جنگجوؤں کو گرفتار کیا گیا۔موصوف پولیس افسر نے بتایا کہ گرفتار شدگان نے حال ہی میں جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ سیکورٹی فورسز، سر پنچوں اور پنچوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے ۔