پبلک ٹرانسپورٹ ہنوز ٹھپ، خانگی گاڑیوں میں زبردست ہجوم
سرینگر ۔ 22 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں آج 79 ویں دن بھی معمول کی زندگی متاثر رہی ہے۔ تاہم شہر کے بعض حصوں میں حمل و نقل دیکھی گئی جس کے نتیجہ میں بعض مقامات پر ٹریفک میں خلل پڑا۔ مارکٹ اور بعض تجارتی ادارے صبح ہی کھل گئے تھے تاہم دن میں 11 بجے دوکانات کو بند کردیا گیا۔ بتایا گیا ہیکہ وادی کے بیشتر حصوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں تھا۔ شہر کے بعض حصوں میں خانگی ٹرانسپورٹ میں زبردست ہجوم دیکھا گیا جن میں مرکزی تجارتی علاقہ لال چوک اور جہانگیر چوک شامل ہیں۔ خانگی گاڑیوں میں زبردست ہجوم کے بعض بعض علاقوں میں ٹریفک جام دیکھا گیا جہاں حکام کی جانب سے ٹریفک نظام کی بحالی کیلئے زائد پولیس فورس کو تعینات کیا گیا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولس کی کشادگی کی کوششیں ثمرآور ثابت نہیں ہوئی کیونکہ سرپرست اپنے بچوں کے تحفظ کو لیکر فکرمند ہیں اور بچوں کو گھروں میں ہی رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دوسری طرف حکام شیڈول کے مطابق بورڈ امتحانات منعقد کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سرکاری دفاتر کھلے ہیں اور بیشتر دفاتر میں حاضری معمول کے مطاابق ہے۔ وادی میں لینڈ لائن اور پوسٹ پیڈ موبائیل خدمات کو بحال کردیا گیا ہے تاہم تمام انٹرنیٹ خدمات 5 اگست سے معطل ہیں جب مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور ریاست کو دو مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔