کشمیر میں 93ویں دن بھی معمولات زندگی متاثر

,

   

سرینگر، 5 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں منگل کے روز غیرمعلنہ ہڑتال کے 93 ویں دن بھی معمولات زندگی اگرچہ متاثر ہی رہے لیکن دن میں دکانیں بند رہنے کے باوجود بازاروں میں لوگوں کی نقل وحرکت جاری رہی اور سڑکوں پر نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی جزوی آمد ورفت بھی جاری رہی۔بتادیں کہ وادی میں مرکزی حکومت کی طرف سے جموں کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنے اور اسے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں منقسم کرنے کے اقدامات کے خلاف غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو ہنوز جاری ہے ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق وادی کے گوشہ و کنار میں منگل کے روز بھی غیر معلنہ ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر رہے تاہم بازاروں میں اگرچہ دن میں دکانیں بند ہی رہیں لیکن لوگوں کی چہل پہل جاری رہی اور سڑکوں پر خانگی ٹرانسپورٹ کی بھر پور جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کی جزوی نقل وحمل جاری رہی۔شہر سری نگر کے جملہ علاقہ جات بشمول تجارتی مرکز لالچوک میں صبح کے وقت بازار کھل گئے اور دن کے گیارہ بجے تک کھلے رہے جبکہ گلی کوچوں میں بیشتر دکان دن بھر کھلے رہے ، بعض دکاندار اپنے دکانوں کے باہر تھڑوں پر ہی بیٹھے تھے تو بعض دکانداروں نے اپنے دکانوں کے شٹر آدھے کھلے رکھے تھے ۔ادھر سری نگر کے بتہ مالو جہاں پیر اور منگل کی درمیانی رات کے دوران آگ کی ایک پراسرار واردات میں قریب 15 دکانیں خاکستر ہوئیں، میں منگل کی صبح تمام دکانیں بند رہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی تھی۔عینی شاہدین کے مطابق سری نگر کے سیول لائنز میں منگل کو بھی چھاپڑوں فروش مختلف اشیائے ضروریہ بشمول سبزی، گرم ملبوسات وغیرہ کو بیچنے میں مصروف تھے ۔ تاہم ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ سری نگر میں پیر کے گرینیڈ حملے جس میں ایک غیر ریاستی کھلونے فروش ہلاک جبکہ 40 دیگر زخمی ہوئے ، کے پیش نظر شہر کے بیشتر علاقوں میں منگل کو بہت کم راہگیر سڑکوں پر چلتے ہوئے نظر آئے ۔