بیئیرٹز(فرانس)۔ 26 اگسٹ ۔(سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندرمودی نے آج امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی موجودگی میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سبھی مسئلے دوطرفہ ہیں اور ان میں کسی تیسرے فریق کا کوئی رول نہیں ہے ۔ مودی نے G-7 چوٹی کانفرنس کے موقع پر الگ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سبھی مسئلے دوطرفہ ہیں اور ہم دنیا کے کسی بھی ملک کو زحمت نہیں دینا چاہتے ۔مجھے یقین ہے کہ ہندوستان اور پاکستان جو 1947ء سے پہلے ایک ہی تھے ،مل کر سبھی مسئلوں پر بات چیت بھی کرسکتے ہیں اور ان کا حل بھی نکال سکتے ہیں۔کشمیر مسئلے پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ٹرمپ نے مودی کی بات سے اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے مسئلے خود سلجھالیں گے ۔ وزیراعظم مودی نے کہاکہ وہ اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے الیکشن جیتنے کے وقت انہوں نے ٹیلی فون پر ان سے کہا تھا کہ پاکستان کو اور ہندوستان دونوں کو غریبی، ناخواندگی اور بیماریوں سے لڑنا ہے ۔دونوں ملک مل کر غریبی اور پریشانیوں سے لڑیں اور دونوں کے عوام کی بھلائی کے لئے مل کر کام کریں۔مودی نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد میں ہی کہا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو غربت کے خلاف اکٹھے لڑنا ہے اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا ہے۔گزشتہ ماہ عمران خان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر اُنھوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے خواہش کی تھی کہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کریں ۔ چند روز بعد امریکی صدر نے بیان دیا تھا کہ وزیراعظم مودی نے اُن سے اسی طرح کی خواہش ماضی میں کی تھی ۔ اس پر ہندوستان نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹرمپ کا بیان مسترد کردیا کہ مودی نے کبھی ثالثی کی خواہش کی ہے ۔
