سرینگر: کورونا وائرس کے متاثرین اور امواتمیں روز اضافہ درج ہو رہا ہے ۔ چنانچہ وادی کشمیر کے مختلف علاقوں بالخصوص سرینگر کے بیشتر حصوں میں پیر کودوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا جس کی وجہ سے بازاروں اور سڑکوں پر ایک بار پھر ویرانی چھا گئی۔اُدھر یوم شہدائے کشمیر کی مناسبت سے حریت کانفرنس (عمر)کی طرف سے ہڑتال کی اپیل کامیاب ہوگئی ۔ صبح میں سرینگر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد دیکھا گیا کہ انتظامیہ نے لوگوں کے گھروں میں ہی بیٹھنے کو یقینی بنانے کیلئے سڑکوں کو سیل کردیا ہے اور سیکورٹی فورسز کی بھی سڑکوں اور اہم چوراہوں پر تعیناتی کو مزید بڑھادیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں بشمول تجارتی مرکز لال چوک میں دن بھر پولیس کی گاڑیاں جن میں لائوڈ اسپیکر لگائے گئے تھے ، لوگوں کو گھروں میں ہی بیٹھنے کا اعلان کررہی تھی۔ نامہ نگار نے بتایا کہ سرینگر میں پیر کے روز ایک بار پھر ہر سو سناٹا چھایا رہا اور سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی نقل وحمل میں بھی کافی کمی دیکھی گئی۔وادی کے دیگر اضلاع و علاقہ جات جیسے اننت ناگ، گاندربل، سوپور، کپوارہ وغیرہ میں بھی دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان علاقوں میں بھی انتظامیہ نے کورونا کیسوں میں اضافے کے پیش نظر ایک بار پھرلاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے اور لوگوں کوتاکیدکی جارہی ہے کہ وہ اپنے اور دوسروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے گائیڈ لائنز پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ ساتھ گھروں سے باہر نکلنے سے حد درجہ احتراز کریں۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کیلئے ریڈ زون علاقوں کے داخلی اور خارجی پوائنٹس پر سی سی ٹی کیمرے نصب کئے جائیں گے ۔انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے اور سزا میں بھی اضافہ کیا ہے ۔ عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے کے جرمانے کو بڑھا کر ایک ہزار روپے کر دیا گیا ہے ۔
