کشمیر کے لوگ بی جے پی حکومت کے فیصلوں سے خوش نہیں

   

Ferty9 Clinic

لوگو ں کی آنکھو ں میں دھول جھونکنے کی کوشش ، بی جے پی میں شامل ہونے والے کرپٹ ارکان گنگا جل سے دُھل جاتے ہیں : غلام احمد میر
سری نگر۔19جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) جموںوکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے 36 مرکزی وزرا کے باری باری ’’دورۂ جموں وکشمیر‘‘کو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت جانتی ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگ اس حکومت کے فیصلوں سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی حکومت نے یہاں کے غریبوں کے لئے کچھ کیا ہوتا تو انہیں آج یہاں وزرا بھیجنے نہیں پڑتے بلکہ لوگ خود بہ خود بی جے پی کے گیت گاتے ۔میر نے یو این آئی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں جموں وکشمیر میں انٹرنیٹ پر عائد قدغن میں نرمی لائے جانے کے اقدامات کو سپریم کورٹ کے ڈنڈے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کی جموں وکشمیر اور مسلم مخالف پالیسیاں نہیں بدلیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ریکارڈ ساز انٹرنیٹ قدغن کا معاملہ اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج بین الاقوامی سطح پر اُجاگر ہونے کی وجہ سے بی جے پی حکومت دبائو میں ہے ۔جی اے میر نے کہا کہ جموں وکشمیر کے سابق اور آخری گورنر ستیہ پال ملک فراڈ کرکے چلے گئے ہیں اور جھوٹ کی تشہیر کے لئے کھربوں روپے خرچ کرنے والے اس شخص کے خلاف کیس درج ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق گورنر نے کھربوں روپے اس جھوٹ کی تشہیر پر خرچ کئے کہ جموں وکشمیر کی زمین، نوکریوں اور ثقافت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جبکہ جموں وکشمیر تنظیم نو قانون 2019 ء واضح الفاظ میں کہتا ہے کہ زمین اور نوکریوں پر اب صرف جموں وکشمیر کے لوگوں کا حق نہیں ہے ۔میر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے ساتھ ساتھ زمین، نوکریوں اور ثقافت کے تحفظ کے حوالے سے پارلیمان سے ضمانت چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان جموں وکشمیر کو پورا بھروسہ ہے کہ ریاستی درجے کی واپسی، زمین اور نوکریوں کا تحفظ صرف اور صرف کانگریس پارٹی یقینی بنا سکتی ہے ۔جموں وکشمیر کانگریس سربراہ نے مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سیاسی لیڈران کا ایکس رے کرتے ہیں اگر کسی میں کوئی بیماری نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ ایکس رے دکھاتا ہے کہ بھئی تمہاری نس اپنی جگہ سے ہل گئی ہے ۔ وہ پھر سیاسی لیڈران کو ڈرانا شروع کرتے ہیں، ان سے کہا جاتا ہے کہ اب دو ہی طریقے ہیں تہاڑ جیل جانے کے لئے تیار رہو یا ہماری جے جے کار کرو۔انہوں نے کہاکہ راجیہ سبھا میں تلگو دیشم پارٹی کے چار اراکین پارلیمان تھے ۔ بی جے پی کو راجیہ سبھا میں اراکین کی کمی کا سامنا تھا۔ اس نے کیا کہ ٹی ڈی پی کے اراکین پارلیمان کے پیچھے ای ڈی لگادی اور انہیں جیل بھیج دیا۔ جیل میں ہی ٹی ڈی پی کے اراکین سے کہا گیا کہ اگر لمبے وقت تک جیل میں نہیں رہنا چاہتے ہو تو بی جے پی سے ہاتھ ملائو۔ جیل سے رہا ہونے کے فوراً بعد انہوں نے ایک ساتھ بی جے پی جوائن کرلی۔ ایک دن پہلے وہ کرپٹ تھے لیکن دوسرے دن جب بی جے پی جوائن کی تو گویا گنگا جل سے نہائے ہیں۔