کشمیر ی عوام کے آئینی حقوق کی حفاظت کا عزم : ملکارجن کھرگے

   

سات ضمانتوں کا مقصد خطہ کیلئے روشن مستقبل کی شروعات ‘مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ

نئی دہلی : صدرکانگریس ملکارجن کھرکے نے اتوار کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے پارٹی کی وابستگی کو دوہراتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے کشمیری عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کا عزم کیا ہے۔ کھرکے نے کہا کہ جموں و کشمیر کیلئے کانگریس کی سات ضمانتوں کا مقصد اس خطے کیلئے ایک روشن مستقبل کی شروعات کرنا ہے۔کھڑکے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کانگریس نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے آئینی حقوق کی حفاظت کا عزم کیا ہے۔ ہمارا ترقی پسند ترقیاتی ایجنڈا سب کے لیے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ضمانتیں سماجی انصاف اور اقتصادی بااختیار بنانے پر توجہ مرکوز کر کے ایک روشن مستقبل لائیں گی۔قبل ازیں کانگریس نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے سات ضمانتوں کا اعلان کیا۔ پارٹی کی پہلی ضمانت کے تحت مرکز کے زیر انتظام علاقے کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ پارٹی نے ہر خاندان کو 25 لاکھ روپے تک مفت علاج اور ہر ضلع میں ایک سپر اسپیشلٹی ہاسپٹل کی تعمیر کا بھی وعدہ کیا ہے۔ان ضمانتوں میں کشمیری پنڈتوں کی بحالی کے لیے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی منصوبہ بندی کا نفاذ اور او بی سی کمیونٹی کے لیے آئین کی بنیاد پر حقوق کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ دیگر ضمانتوں میں خاندان کی خواتین سربراہوں کو 3000 روپے ماہانہ مالی مدد اور ہر خاندان کے ہر رکن کیلئے 11 کلو اناج کی فراہمی شامل ہے۔کشمیر میں دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کیلئے انتحابی مہم کا 23ستمبر کو اختتام عمل میں آئے گا۔لوک سبھا میں اپوزیشن قائد راہول گاندھی جموں وکشمیر میں دوسرے مرحلہ کی انتحابی تشہرکے آخری دن پیر کو الیکشن ریالیوں سے خطاب کریں گے ۔کانگریس اور نیشنل کانفرنس اتحاد کے امیدواروں کی کامیابی کیلئے دونوں جماعتوں کے قائدین مہم میں حصہ لے رہے ہیں ۔ دوسری طرف بی جے پی بھی پارٹی امیدواروں کیلئے زور وشور سے مہم چلارہی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کئی انتخابی ریالیوں سے خطاب کیا اور کہا کہ کانگریس ‘ نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی نے جموںوکشمیر کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ بہر حال 25ستمبر کو دوسرے مرحلہ کے بعد الیکشن کی تصویر کچھ حد تک واضح ہونے کا امکان ہے۔کانگریس اتحاد نے ریاست کے درجے کو بحال کرانے کا کشمیری عوام سے وعدہ کیا ہے ۔ کانگریس اتحاد کے اس وعدہ پر پاکستان کے وزیر خواجہ آصف نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس اتحاد کشمیر کے ریاست کے درجہ کو بحال کرانے میں ہماری صف میں ہے جس پر سیاسی ہنگامہ بھی ہوا۔