سری نگر 24فروری (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں پیر کے روز قریب سات ماہ کے بعد تمام سرکاری ونجی تعلیمی اداروں میں دعائے صبح (مارننگ پریئر) گونجنے کے ساتھ ہی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت کے سال گزشتہ کے پانچ اگست کے آئینی دفعات 370 و 35 اے کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے بعد وادی کے تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں زائد از نصف برس تک مفقود رہیں۔ اگرچہ انتظامیہ نے کئی بار تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے دعوے کئے تاہم اسکول تو کھل گئے لیکن طلبا نے گھروں میں بیٹھنے کو ہی ترجیح دی تھی۔ بعد ازاں تعلیمی اداروں میں طلبا کی گہماگہمی اس وقت پھر شروع ہوئی تھی جب جموں و کشمیر سٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے ماہ اکتوبر 2019 کی 29 اور 30 تاریخ کو بالترتیب دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانوں کے لئے ڈیٹ شیٹ جاری کئے اور امتحانات شروع ہوگئے ۔ طلبا کا الزام تھا کہ انہوں نے نصف نصاب بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ امتحانات منعقد کئے گئے ۔وادی کشمیر میں پیر کے روز تعلیمی ادارے اس وقت کھلے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہندوستان کے دو روزہ دورہ پر ہیں جس کے پیش نظر وادی کشمیر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے ۔وادی کشمیر میں پیر کے روز سرکاری اعلان کے مطابق سرمائی تعطیلات کے بعد جبکہ غیر سرکاری طور پر قریب سات ماہ کے بعد تمام سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی ادارے کھل گئے ۔ مختلف النوع رنگوں کے شگوفوں سے جہاں اسکولوں میں بہار نو کی فضا کھل گئی وہیں اساتذہ کے چہروں پر بھی مسکراہٹ کے گلستان کھلتے ہوئے دیکھے گئے ۔ وادی کشمیر میں مجموعی طور پر 13 ہزار 800 اسکول قائم ہیں جن میں قریب 12 لاکھ طلباء زیور تعلیم سے آراستہ وپیراستہ ہورہے ہیں۔ پیر کی صبح کو ہی طلبا کو رنگ برنگی وردیوں میں ملبوس اور صاف وشفاف جوتے پہنے طلباء کو قطار در قطار سڑکوں پر چلتے ہوئے اور بس اسٹاپوں پر اپنے والدین کے ہمراہ اسکول بس کا انتطار کرتے ہوئے دیکھا گیا۔