حیدرآباد ۔ 31 اگست (سیاست نیوز) غریب پسماندہ مسلمانوں کو دیئے جانے والے 4 فیصد مسلم تحفظات بی جے پی کو کھٹک رہے ہیں۔ بی جے پی نے ہر محاذ پر اس کی مخالفت کی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم التواء سے تلنگانہ اور آندھراپردیش کے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات حاصل ہورہے ہیں۔ تعلیم اور ملازمتوں کے علاوہ مقامی اداروں کے انتخابات میں بی سی (ای) تحفظات۔ تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والی بی جے پی مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر اگلتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے لیکر بی جے پی کا گلی کوچوں کا لیڈر بھی ہر مسئلہ کو ہندو، مسلم سے جوڑتے ہوئے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔ چند دن قبل ملعون راجہ سنگھ نے شان رسالتؐ میں گستاخی کرتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ ابھی اس سے مسلمانوں کا غم و غصہ ختم ہی نہیں ہوا تھا کہ ضلع رنگاریڈی کے آمنگل میں بی این آر گارڈن میں منگل کو ایک پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں بی جے پی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ حکومت تشکیل دینے کے بعد بی جے پی سب سے پہلے مسلمانوں کو دیئے جانے والے 4 فیصد مسلم تحفظات کو برخاست کردے گی اور قبائلی طبقات کو 10 فیصد تحفظات فراہم کرے گی کیونکہ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر دیئے جانے والے تحفظات کیخلاف ہے۔ ریاست میں ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے قبائلی طبقات کے تحفظات میں توسیع دینے کے وعدے کو فراموش کردیا ہے جس کی بی جے پی سخت مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو 10 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں۔ اس طرح بی جے پی کے قائدین ریاست میں مسلمانوں کیخلاف بیان بازی کرنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس معاملے میں کبھی تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کچھ کہتے ہیں تو کبھی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کچھ کہتے ہیں جبکہ بی جے پی کے معطل شدہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ مسلمانوں کیخلاف وقفہ وقفہ سے کچھ نا کچھ کہتے ہیں۔ بی جے پی ایک منصوبہ کے تحت مسلمانوں کیخلاف گمراہ کن تشہیر کررہی ہے۔ن