تلنگانہ میں 8 برسوں تک کانگریس کا اقتدار، نظام آباد کیلئے پراجکٹس کی منظوری، جلسہ عام سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد ۔6 ۔ فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزیر کشن ریڈی کالیشورم پراجکٹس دھاندلیوں کے معاملہ میں کے سی آر اور کے ٹی آر کا تحفظ کر رہے ہیں ۔ مجالس مقامی انتخابی مہم کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے آج نظام آباد میں پارٹی امیدواروں اور عوامی جلسہ سے خطاب کیا۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی نے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں بدعنوانیوں کا الزام عائد کیا لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ تلنگانہ حکومت نے سی بی آئی تحقیقات کی سفارش کی لیکن آج تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ ریونت ریڈی نے بی جے پی سے سوال کیا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر کو آخر کب گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزیر کشن ریڈی دراصل کے سی آر اور کے ٹی آر کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ کشن ریڈی سے کلوا کنٹلا کشن راؤ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے نظام آباد کے ڈچپلی منڈل میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔ جلسہ عام میں عوام کی کثیر تعداد شریک تھی۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ شہری علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے بلدیات کو ترقیاتی فنڈس فراہم کئے تھے لیکن بی آر ایس کے میئرس اور صدور نشین نے کانگریس حکومت کو بدنام کرنے کیلئے فنڈس کا استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے منتخب عوامی نمائندے ترقیاتی فنڈس کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی سہولتوں میں اضافہ کریں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نظام آباد کے کسانوں کی جدوجہد ملک کیلئے مثالی ہے۔ انہوں نے ضلع کے پراجکٹس کی تکمیل کیلئے فنڈس جاری کرنے کا تیقن دیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کی نمائندگی پر ضلع میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ضلع کیلئے انجنیئرنگ اور فارمیسی کالجس کی منظوری دی گئی ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند پر تنقید کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ نظام آباد کے عوام نے دو مرتبہ منتخب کیا لیکن ضلع کی ترقی کیلئے مرکز سے فنڈس حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد کی اسمارٹ سٹی کی منظوری میں ڈی اروند ناکام رہے ۔ حالانکہ وہ وزیراعظم نریندر مودی سے قربت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس میں بی جے پی کی مدد کی اور اپنا ووٹ بی جے پی کو منتقل کرایا جس کے نتیجہ میں 8 نشستوں پر بی جے پی کامیاب رہی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس کا ووٹ فیصد 36 فیصد سے گھٹ کر 18 فیصد ہوچکا ہے جو دونوں پارٹیوں میں مفاہمت کا کھلا ثبوت ہے۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ بی آر ایس اور بی جے پی کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس پارٹی امیدواروں کو منتخب کریں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ 8 برسوں تک تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار رہے گی۔ نظام آباد ، ورنگل اور عادل آباد کے لئے ایرپورٹس کی منظوری کانگریس حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اس موقع پر صدرپردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ، ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی ، ٹی ناگیشور راؤ اور مقامی عوامی نمائندے موجود تھے۔1