کشن ریڈی کو کوئلہ اور کانکنی جبکہ بنڈی سنجے کمار کو وزارت داخلہ کا قلمدان

   

مرکزی کابینہ میں تلنگانہ سے تیسرے مملکتی وزیر داخلہ بننے کا اعزاز، بی جے پی کو مستحکم کرنے کی مساعی
حیدرآباد۔/11 جون، ( سیاست نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی کابینہ میں شام کئے گئے تلنگانہ کے دونوں وزراء جی کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کو اہم قلمدان تفویض کئے گئے ہیں۔ سکندرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی کے ریاستی صدر جی کشن ریڈی کابینی درجہ کے وزیر ہیں اور انہیں وزارت کوئلہ اور کانکنی کا قلمدان حوالے کیا گیا ہے۔ کریم نگر کے رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بنڈی سنجے کمار کو منسٹر آف اسٹیٹ ہوم افیرس کا قلمدان دیا گیا اور وہ امیت شاہ کے تحت کام کریں گے۔ کشن ریڈی مرکزی کابینہ میں پرہلاد جوشی کے جانشین ہیں جنہیں اس مرتبہ وزارت کنزیومر افیرس، غذا اور عوامی نظام تقسیم کا قلمدان دیا گیا ہے۔ جی کشن ریڈی کیلئے اہم چیلنج برقی پیداواری پلانٹس کو کوئلہ کی مناسب سربراہی رہے گا۔ وہ مائننگ کے شعبہ میں خانگی شراکت میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں 20 کوئلہ بلاکس میں سے 13 بلاکس کا ہراج منسوخ کردیا تھا۔ کشن ریڈی وزیر کوئلہ اور کانکنی کی حیثیت سے تلنگانہ کے کول بیلٹ علاقوں میں پارٹی کے استحکام میں اہم رول ادا کریں گے۔ کشن ریڈی سکندرآباد لوک سبھا حلقہ سے دوسری مرتبہ منتخب ہوئے اور وہ رنگاریڈی کے کسان خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے1977 میں سیاسی سفر کا آغاز کیا اور بی جے وائی ایم کے قومی صدر کے عہدہ پر فائز رہے۔ کشن ریڈی گذشتہ کابینہ میں سیاحت اور کلچر کے وزیر تھے اور نارتھ ایسٹرن ریجن کی ترقی کے انچارج رہے۔ بنڈی سنجے کو مملکتی وزیر داخلہ کی اہم ذمہ داری کے نتیجہ میں تلنگانہ میں بی جے پی کے مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ بنڈی سنجے تلنگانہ کے تیسرے رکن پارلیمنٹ اور کریم نگر کے دوسرے رکن پارلیمنٹ ہیں جنہوں نے مرکز میں مملکتی وزیر داخلہ کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ اٹل بہاری واجپائی حکومت میں اسوقت کے رکن پارلیمنٹ کریم نگر سی ایچ ودیا ساگر راؤ 1999 تا 2003 مملکتی وزیر داخلہ رہے بعد میں انہیں مہاراشٹرا کا گورنر مقرر کیا گیا۔ مودی حکومت میں 2019 تا 2021 مملکتی وزیر داخلہ کے طور پر جی کشن ریڈی تلنگانہ کے دوسرے رکن پارلیمنٹ ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ بنڈی سنجے کمار تیسرے رکن پارلیمنٹ ہیں جنہیں وزارت داخلہ کا قلمدان دیا گیا۔ بنڈی سنجے کمار کو پہلی مرتبہ کابینہ میں شامل کیا گیا جبکہ وہ کریم نگر سے دوسری مرتبہ منتخب ہوئے۔1