تلنگانہ کے ساتھ مرکز کا سوتیلا سلوک، ہر شعبہ میں ریاست کو نظرانداز کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 17 جون (سیاست نیوز) ریاستی وزیرفینانس ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ کے ساتھ مرکزی حکومت سوتیلا سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کی رپورٹ کو جھوٹ پر مبنی بکواس رپورٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے جو تقریر کی تھی جی کشن ریڈی نے اس کو دہرایا ہے۔ حقیقت یہ ہیکہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کی کسی بھی طرح مدد نہیں کی ہے۔ مرکز سے وصول طلب 1.43 لاکھ کروڑ روپئے فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہریش نے کہا کہ ٹیکس کی تقسیم ریاستوں کا دستوری ہے۔ مرکزی حکومت ریاستوں سے کوئی مہربانی نہیں کررہی ہے۔ تمام ریاستوں کی ٹیکس میں 41 فیصد حصہ داری ہے مگر ریاستوں کو صرف 30 فیصد ٹیکس حصہ داری حاصل ہورہی ہے۔ مرکزی ٹیکس کی حصہ داری میں سیس ، سرچارج نافذ کرتے ہوئے ٹیکس کی تقسیم میں ریاستوں سے ناانصافی کی جارہی ہے۔ ریاست تلنگانہ کی 2014-15ء میں ٹیکس حصہ داری 2.893 فیصد تھی جو سال 2021-22ء میں گھٹ کر 2.102 فیصد ہوگئی ہے۔ کشن ریڈی نے جو بھی اعدادوشمار رپورٹ میں پیش کئے ہیں وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہے جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ سال 2017-18ء تا سال 2022-23ء تک جی ایس ٹی سیس کے تحت 34,737 کروڑ روپئے وصول کئے گئے بدلے میں تلنگانہ کو صرف 8927 کروڑ روپئے دیئے گئے۔ جی ایس ٹی کو متعاف کرانے کے بعد مرکز سے پہلے دو سال میں صرف 169 کروڑ روپئے وصول ہوئے جبکہ ان دو برسوں کے دوران تلنگانہ سے 10,285 کروڑ روپئے جی ایس ٹی سیس کی شکل میں وصول کئے گئے۔ ن