نیویارک : اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ زہریلے مواد کے استعمال کے نتیجے میں ’’صحت کے سنگین مسائل یا موت‘‘ ہوسکتی ہے۔ ہندوستانی کمپنیوں کی ادویات کے خلاف عالمی ادارہ صحت کی پچھلے دس ماہ میں یہ پانچویں وارننگ ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے پیر کو ہندوستان میں تیار کردہ ’کولڈ آؤٹ‘ نامی کف سیرپ (کھانسی کی شربت)کے بارے میں عالمی الرٹ جاری کیا ہے۔ یہ دوا عراق میں فروخت ہو رہی ہے اور اس میں زہریلے مادے پائے گئے ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے عالمی تنبیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروڈکٹ غیر معیاری اور غیر محفوظ ہے۔ اس کا استعمال، بالخصوص بچوں کو شدید نقصانات پہنچانے یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔گزشتہ دس ماہ کے دوران ہندوستانی مینوفیکچرز کے خلاف جاری کی جانے والی یہ پانچویں وارننگ ہے۔اقوام متحدہ کی ایجنسی، ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس کف سیرپ کو فورٹس (انڈیا) لیباریٹریز فار ڈابی لائف فارما نامی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ اس میں قابل قبول حد سے زیادہ آلودگی پائی گئی ہے۔تاہم کمپنی کے نائب صدر بالاسریندرن نے گزشتہ ماہ بلوم برگ کو بتایا تھا کہ دوا کی تیاری کیلئے ایک دوسری کمپنی کو ڈیلی کانٹریکٹ دیا گیا تھا اور جب انہوں نے کف سیرپ کا جائزہ لیا تو ان کی کمپنی کو اس نمونے میں کوئی زہریلا مواد نہیں ملا۔عراقی مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اس ہندوستانی کف سیرپ میں 0.25 فیصد ڈائیتھیلین گلائکول اور 2.1 فیصد ایتھلین گلائکول پایا گیا۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ان دونوں کیمیاوی مادوں کی قابل قبول حفاظتی حد 0.10 فیصد ہے۔ دواساز کمپنی اور فروخت کرنے والی کمپنی دونوں نے ہی مصنوعات کی حفاظت اور معیار سے متعلق ڈبلیو ایچ او کو ضمانت فراہم نہیں کی ہے۔ کف سیرپ کے زہریلے اثرات پیٹ میں درد، قے، اسہال، پیشاب میں رکاوٹ، سردرد، دماغی حالت میں تبدیلی اور شدید نقصانات کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، جو موت کا سبب بن سکتے ہیں۔